صحافیوں پر حملوں کے بعض واقعات میں مسلح گروپ اور القاعدہ کے جنگجو بھی ملوث بتائے جاتے ہیں۔ باغیوں کے ہاتھوں اس نوعیت کے واقعات شام کے شمالی شہروں میں پیش آتے رہے ہیں۔
العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شام کے خطرناک محاذ جنگ میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ پر جنگ کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو جہاں ایک جانب سرکاری فوج کے منظم حملوں کا سامنا رہتا ہے وہیں القاعدہ جیسے شدت پسند گروپوں کی جانب سے بھی مخالفانہ فتاویٰ کا سامنا رہتا ہے۔
ترک سرحد سے متصل حلب اور ادلب صحافیوں کے لیے خطرناک ترین شہر قرار دیے جا رہے ہیں جہاں القاعدہ کے شدت پسند اور سرکاری فوج دونوں کے حملوں سے صحافی اور سماجی کارکن متاثر ہو رہے ہیں۔ صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں پر ہونے والے بیشتر حملوں میں نقاب پوش افراد کے ہاتھوں ہو رہے ہیں۔ صرف حلب شہرمیں چار ایام میں صحافیوں کے قتل اور اغواء کے پچیس واقعات رونما ہوچکے ہیں۔
مجموعی طور پر شام کے محاذ جنگ میں مارچ 2011ء کے بعد سے اب تک 261 صحافی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ ان میں باغی جنگجوں کے حملوں میں مرنے والے صحافیوں کی تعداد 14 بتائی جاتی ہے۔
شام کی جنگ کی کوریج کرنے والے ملکی اور غیر ملکی نامہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد کو اغواء کے بعد غائب بھی کردیا گیا ہے۔ گذشتہ تین سال کے دوران اب تک کم سے کم 174 صحافی سرکاری فوج کے ہاتھوں اغواء اور تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں۔ جبکہ 32 صحافیوں کے اغواء کا الزام باغی گروپوں پربھی عائد کیا جاتا ہے۔ گذشتہ مہنے شام میں سرگرم القاعدہ کی بغل بچہ “دولت شام وعراق” نے مبینہ طورپردوصحافیوں کو اغواء کیا۔ آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
العربیہ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…