ایران کے شمالی صوبہ گلستان کے ممتاز سنی عالم دین، مولانا محمدحسین گرگیج، نے تہران کے بعض علاقوں میں سنی مسلمانوں کی نمازعید پر پابندی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اہل سنت ایران کے حق میں سب سے بڑی ناانصافی قرار دیاہے۔
’آزادشہر‘ کے فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے خطبہ عید میں ایرانی سکیورٹی حکام کے امتیازی سلوک اور ظالمانہ رویے پر سخت برہمی کااظہار کیا۔ انہوں نے کہا: افسوس کی بات ہے کہ بعض علاقوں میں حکام اپنی ذاتی آراءکو قانون کا رنگ دیکر لوگوں کو دورکعت نماز سے روکتے ہیں۔ ایسے حکام پر افسوس ہی کیاجاسکتاہے۔ ہم اس مسئلے کو اہل سنت کے حق میں ظلم عظیم سمجھتے ہیں۔
مقامی ویب سائٹ ’بت شکن‘ کی رپورٹ کے مطابق جامعہ فاروقیہ گالیکش کے مہتمم نے قومی آئین میں تصریح شدہ قوانین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: آئین کی آرٹیکل12 کے مطابق تمام فقہی مسالک کو دینی امور میں مکمل آزادی حاصل ہے اور جن علاقوں میں ان کی اکثریت ہو وہاں شوری اکثریت کی فقہ کے مطابق عمل کرنے پر ملزم ہوگا۔ اس کے باوجود ہم سے نمازعید قائم کرنے پر اجازت حاصل کرنے کا کہاجاتاہے! کیا اجازت آسمان سے اترتی ہے کہ اسے دیر ہوتی ہے؟ کیا اجازت دینا آپ کے اختیار میں نہیں کہ بیک جنبش قلم آپ اہل سنت کی نمازعید کو بلامانع قرار دیدیں؟! کیوں تم اہل سنت کی دو رکعت نماز برداشت کرنے سے قاصر ہو؟
مولانا گرگیج نے مزیدکہا: ایرانی اہل سنت کی اسی فیصد سے زائد ووٹروں نے اپنا ووٹ صدر روحانی کے حق میں استعمال کیا تاکہ ایسی پابندیوں سے جان چھڑالیں اور آزادی کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کیاکریں، ان کے علماءکی نقل وحرکت پر کوئی پابندی نہ ہو، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اب بھی ایسی پابندیاں قائم ہیں۔
یادرہے اس سے قبل ممتازسنی عالم دین نے اپنے گیارہ اکتوبر کے بیان میں ایران کے تمام علاقوںمیں بشمول بڑے شہروں کے نمازعید کے قیام کو اہل سنت کا مسلمہ حق قرار دیکر وزارت داخلہ، صوبائی اور شہری گورنرز اور پولیس سے درخواست کی تھی اس سلسلے میں اہل سنت سے تعاون کریں اور ہرقسم کی پابندی سے گریز کریں۔