Categories: پاکستان

مذاکرات شروع ہوئے، تشدد میں اضافہ ہوا اور بات چیت پٹڑی سے اتر گئی

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے اوردوسرے فریق کی طرف سے بھی اسی طرح کی کوششیں ہونی چاہئیں۔

وزیراعظم نواز شریف سنیچر کو امریکہ کے چار روزہ دورے کے لیے روانہ ہوئے تھے جہاں وہ امریکی صدر سمیت، اقتصادی امور کے سلسلے میں اہم اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ جاتے ہوئے لندن میں مختصر قیام کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ڈرون حملوں کے بارے میں موقف بالکل واضح ہے اور ہماری پالیسی میں کوئی دوغلا پن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ’تمام پارٹیوں نے طالبان سے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد ہم نے مذاکرات شروع کیے لیکن پھر تشدد بھڑک اٹھا اور مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوگئی‘۔
پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ کے دورے کے دوران وہ امریکی رہنماؤں سے ڈرون حملوں پر بات کریں گے کیونکہ یہ حملے ملک کی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی یہ ڈرون حملوں کا مسئلہ اٹھایا تھا۔
وزیراعظم نے افغانستان میں نیٹو افواج کی واپسی کے بعد کی صورتحال سے متعلق بتایا کہ اس معاملے میں پاکستان کا اپنا مقام اور کردار ہے اور افغانستان میں امن کی اپنی کوششیں دوبارہ شروع کریں گے۔
اس سے پہلے سنیچر کو روانگی سے قبل وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کسی بھی ملک کی خود مختاری کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس دورے میں افغانستان سمیت دیگر علاقائی امور پر بھی بات چیت کریں گے۔
وزیرِاعظم نواز شریف اتوار کو امریکی وزیرِخارجہ جان کیری سے ملاقات کریں گے اور بدھ کو اُن کی ملاقات امریکی صدر براک اوباما سے ہوگی۔
اُن کی آمد سے قبل امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات گہرے کرنے کا موقع دے گا کیونکہ گذشتہ ایک سال کے دوران، دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں میں خاطرخواہ کمی ہوئی ہے۔
امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کئی برسوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں تاہم کئی مواقع پر دونوں کے درمیان عدم اعتماد منظرِ عام پر آیا ہے۔
پاکستان کا موقف رہا ہے کہ امریکہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنے قبائلی علاقوں میں موجود دہشتگردی کے ان ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا جو افغانستان میں نیٹو افواج کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
گذشتہ ماہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور امریکہ یہ حملے بند کرے تاکہ مزید شہریوں کی ہلاکت نہ ہو۔
میاں نواز شریف نے اس سے قبل بطور وزیرِاعظم اپنے گذشتہ دورِ حکومت میں امریکی صدر بل کلنٹن سے ملاقات بھی کی تھی جس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کارگل کا تنازع جاری تھا۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago