عدالت نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اسلامی جماعت، اس کی غیر سرکاری تنظیم اور اس سے وابستہ ہر تنظیم پر لاگو ہوتا ہے۔
عدالت نے عبوری حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ اخوان المسلمین کے اثاثے قبضے میں لے کر اس سلسلے میں کسی اپیل کی سنوائی تک اس کی نگرانی کے لیے ایک پینل تشکیل دے۔
ملک کی فوج نے صدر مرسی کو اس سال تین جولائی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا اور اخوان المسلمین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا تھا۔
اخوان المسملین کے اہم رہنما محمد بدیع سمیت کئی سینئر اراکین تشدد اور قتل و غارت پر اکسانے کے الزام میں حراست میں ہیں۔
پچاسی سال پرانی اسلامی جماعت پر مصر کی فوج نے انیس سو چون میں پابندی عائد کر دی تھی۔ اخوان المسلمین کے مخالفین نے اس کی قانونی حیثیت کو عدالت میں چیلنج کر رکھا تھا جس کے نتیجے میں جماعت نے رواں سال مارچ میں خود کو ایک این جی او کے طور پر رجسٹر کروا لیا تھا۔
اخوان المسلمین کا قانونی طور پر رجسٹرڈ سیاسی ونگ ’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘ دو ہزار گیار میں اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب حسنیٰ مبارک کو مظاہروں کے نتیجے میں اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا تھا۔
صدر مرسی کی معزولی اور آئین کی معطلی کے بعد قاہرہ میں انتظامی عدالت کو یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ اخوان المسلمین کی قانونی حیثیت پر نظرثانی کرے۔
اخوان المسلمین کے رہنما ابراہیم منیر نے اس فیصلے کو ’ایک مطلق العنان فیصلہ‘ قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ اس سے ان کی تنظیم غائب نہیں ہو گی۔
انہوں نے الجزیرہ مباشر مصر ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ ’یہ خدا کی مدد سے قائم رہے گی نہ کی جنرل السیسی کی عدالتوں کے فیصلوں سے‘۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…