ایرانی اہل سنت کے ممتازدینی سکالر، شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید، نے ایران کے مرشداعلی سے درخواست کی ہے دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی مفادات کے پیش نظر چھبیس کردسنی قیدیوں کی پھانسی روکنے کیلیے عملی اقدامات اٹھائیں۔
مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق، خطیب اہل سنت زاہدان نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے نام خط لکھتے ہوئے تہران اور آس پاس کی جیلوں میں قید سنی شہریوں کی پھانسی کی سزا روکنے کیلیے ان سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔
مذکورہ خط میں جو انیس ستمبر کو بھیجاگیاہے، آتاہے: عالمی حالات انتہائی ناسازگار ہیں اور ہرسو انارکی پھیلی ہوئی ہے، اسلام دشمن عناصر ایسے مواقع کی تلاش میں ہیں تاکہ فرقہ واریت کو ہوا دیکر مسلمانوں میں مزید پھوٹ ڈالیں۔
ایرانی مرشداعلی کو مخاطب کرتے ہوئے عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے لکھاہے: جہاں تک میری شناخت کا تعلق ہے آپ ایک دوراندیش اور مدبر رہبر ہیں، لہذا قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے چھبیس کرد نوجوانوں کی پھانسی کے کیس میں مداخلت کریں۔ بصورت دیگر ہمیں اندرونی اور بیرونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔
مذکورہ خط کی ایک کاپی نومنتخب صدر ڈاکٹر حسن روحانی تک پہنچایاگیاہے تاکہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے ملکی سلامتی یقینی بنائیں۔
یادرہے چارسال قبل ایک کریک ڈاون کے دوران ایرانی کردستان سے متعدد کارکن اور اہل علم گرفتار کردیے گیے جن میں چھ کو چند مہینے قبل پھانسی دیدی گئی ہے۔ کم ازکم چھبیس مزید افراد کیلیے پھانسی کی سزا جاری ہوئی ہے جس سے سنی برادری میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے۔ حال ہی میں ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے مذکورہ افراد کی جانیں بچانے کیلیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
کرد عالم دین، کاک حسن امینی سمیت متعدد سنی شخصیات و اداروں نے مذکورہ قیدیوں کی پھانسی کی ممکنہ سزا پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیاہے۔