اس سرحدی علاقے میں موجود شامی حزب اختلاف کے کارکنان نے بتایا ہے کہ منگل کی شام اس بم دھماکے کے نتیجے میں دس بارہ افراد زخمی ہوئے ہیں اور انھیں نزدیک واقع اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا ہے کہ ترکی کی سرحد سے چند سو میٹر دور واقع بارڈر کراسنگ کے داخلی دروازے میں ایک بند شاہراہ پر بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔ یہ بارڈر کراسنگ شامی باغیوں کے ایک اسلامی بریگیڈ کے زیر قبضہ ہے اور انھوں نے ہی سرحد کی جانب جانے والی شاہراہ کو سکیورٹی کے نقطہ نظر سے بند کررکھا ہے۔ لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بھی اس بم دھماکے کی تصدیق کی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…