- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

اتباع قرآن وسنت ہی سے صحابہ کامیاب ہوگئے

 

 

 

عارضی خطیب اہل سنت زاہدان مولانا احمدناروئی نے اتباع قرآن وسنت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے عصرحاضر کے مسلمانوں کی ناکامی و شکست کو قرآن وسنت سے دوری قرار دیا۔

زاہدان شہر کے مرکزی اجتماع برائے جمعہ میں نمازیوں سے خطاب کا آغاز قرآنی آیت: «وَأَنفِقُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوَاْ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» [بقره: 195]، (اور تم لوگ (جان کے ساتھ مال بھی) خرچ کیا کرو الله کی راہ میں اور (اپنے آپ کو ) اپنے ہاتھوں تباہی میں مت ڈالو اور کام اچھی طرح کیا کرو بلاشبہ الله تعالیٰ پسند کرتے ہیں اچھی طرح کام کرنے والوں کو۔) کی تلاوت سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے تین اہم اصولوں اور قوانین کا تذکرہ فرمایا ہےجنہیں ہر انسان اپنی زندگی میں جامہ عمل پہنا کر کامیابی و فلاح حاصل کرسکتاہے۔

دارالعلوم زاہدان کے استاذالحدیث نے مزیدکہا: انسان اور کائنات کی تخلیق کی ابتدا سے اللہ تبارک وتعالی نے انسانوں کی ضرورتوں کے مطابق اپنے انبیاء مبعوث فرما کر لوگوں کو راہ راست کی جانب رہنمائی فرمالی۔ بعض احکام میں مختلف فیصلے تھے لیکن تین امور میں تمام انبیا علیہم السلام متفق تھے؛ توحید، نبوت اور معاد میں کسی کا اختلاف نہیں تھا۔ تمام پیغمبروں نے بلااستثنا لوگوں کو اللہ کی یگانگی او رتوحید کی دعوت دی۔

مذکورہ بالا آیت کی شان نزول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: یہ قرآنی آیت کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل ہوئی جن کا خیال تھا اب اسلام طاقتور ہوچکاہے اور جہاد و غیرہ کی ضرورت نہیں، لہذا ہم اپنے دنیوی امور میں لگ جائیں۔ لیکن اللہ تعالی نے انہیں خبردار کیا کہ ایسا کرکے اپنے آپ کو ہلاکت وتباہی میں نہ ڈالیں۔

نائب مہتمم دارالعلوم زاہدان مولانا احمد نے کہا: قرآنی تعبیر سے یوں معلوم ہوتاہے کہ جب مسلمان دین کے بارے میں سستی کا مظاہرہ کریں اور احکام اسلام کے حوالے سے غفلت کا شکار ہوجائیں تو دراصل یہ ان کی تباہی کی نشانی ہے۔ ایسے لوگوں کا انجام تباہی و بربادی ہے۔ لہذا مسلمانوں کو چاہیے خود کو دین اسلام سے وابستہ قرار دے دیں۔

قرآنی آیت کی روشنی میں “خودکشی” کے بڑھتے ہوئے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: افسوسناک بات ہے کہ کچھ کمزور اور سست ایمان لوگ معاشرے میں خودکشی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ خودکشی اسلام میں قطعی حرام اور ناجائز ہے۔ خودکشی کرنے والوں کی جگہ جہنم ہے۔ البتہ جو شخص بہادری دکھا کر اللہ کی رضامندی کی خاطر اور مسلمانوں کی فتح کی نیت سے دشمن پر وار کرتاہے اور اس حال میں شہادت سے ہمکنار ہوتاہے اس کا حال مختلف ہے اور اس کا اقدام خودکشی شکار نہیں ہوتا۔ اس کی مثالیں صدراسلام کے غزوات او فتوحات میں دستیاب ہیں۔ لیکن کمزور لوگ اپنی سست ارادی اور مشکلات زندگی کےسامنے ہمت ہارنے کی وجہ سے اپنی زندگی کا چراغ خود گُل کردیتے ہیں۔

عارضی خطیب اہل سنت زاہدان نے صحابہ کرام اور تابعین کی زندگیوں میں قرآن و سنت کے اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: قرآن وسنت ہی کی برکت سے صدراسلام کے مسلمانوں کو فتح و کامیابی اور عزت نصیب ہوئی۔ ان  دوعظیم سرمایوں کی برکت سے وہ لوگ جو قتل وغارتگری پر فخر محسوس کیا کرتے تھے، پارسا اور عابد و زاہد بن گئے۔ ان بزرگ ہستیوں نے اسلام اور شریعت کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچادیا۔ ان تمام حضرات خود کو اسلام کے نمائندے تصور کرتے تھے اور اسی وجہ سے بلاتفریق دین کی نشر و اشاعت میں مگن ہوگئے تھے۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج کا مسلمان یہ سمجھتاہے کہ تبلیغ دین صرف علمائے کرام، اہل دعوت و تبلیغ اور صوفیوں کا کام ہے۔ یہ غلط سوچ ہے؛ اگر صدراسلام کے مسلمانوں کا خیال یہی ہوتا تو کیسے اسلام دنیا میں پھیل جاتا اور ہم مسلمان ہوجاتے؟

مولانا احمد ناروئی نے مزیدکہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے باوفا اصحاب نے اپنے خیال پر عملدرآمد نہیں کیا، اس کے باوجود فورا اللہ سبحانہ وتعالی نے انہیں وارننگ دے دی۔ مگر آج کے مسلمان اجتماعی خودکشی کا ارتکاب کرچکے ہیں؛ نمازوں میں سستی و کاہلی، گناہ و فحاشی پر بے حسی کا مظاہرہ کرنا اور فساد کے مرتکب ہونا سب اجتماعی خودکشی کی علامات ہیں۔ جب مسلمان اپنا دین چھوڑدیں تو انہیں بربادی اور ہلاکت کا سامنا کرنا ہوگا۔

متعلقہ حکام امیدواروں کی اہلیت دیانتداری سے چیک کریں
ممتاز سنی عالم دین نے ایران میں شہری اور دیہی شورا کے انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: کونسل انتخابات میں شرکت کیلیے جن لوگوں نے کاغذات جمع کرایاہے ان کی اہلیت کی جانچ پڑتال دیانتداری سے کرنی چاہیے۔ زاہدان سے شکایات موصول ہورہی ہیں کہ متعدد امیدواروں کو بلاوجہ نااہل قرار دیا گیاہے۔

انہوں نے مزیدکہا: امکان ہے بعض امیدواروں پر الزامات لگائے جائیں لیکن جب تک کسی عدالت میں ان کا جرم ثابت نہ ہو تو انہیں محض کسی الزام کی وجہ سے نااہل قرار نہیں دیاجاسکتا۔ متعلقہ حکام اپنی ذاتی یا جماعتی خیالات کو دخل انداز مت کریں اور غیرجانبداری سے امیدواروں کی اہلیت پر تحقیق و فیصلہ کریں۔ ملک میں ایک آزاد اور منصفانہ الیکشن کا انعقاد ملکی وقار اور قوم کی عزت کیلیے ضروری ہے۔ جمہوریت اور آزادی کے دعووں کا ثبوت عمل سے دکھانا پڑے گا۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارے لوگ یورپ اور مغربی ممالک میں رہنے اور آباد ہونے کو ترجیح دیں اور اسی خیال میں اپنی شب و روز گزاریں۔

اپنے خطاب کے آخر میں مولانا احمد نے دارالعلوم زاہدان کے سالانہ تقریب ختم بخاری و دستاربندی کی آمد پر حاضرین سے درخواست اس اہم اجتماع کی قبولیت اور کامیابی کیلیے دعا کریں اور تقریب کے اخراجات اور ضروری مواد کی فراہمی میں بھرپور کوشش کرکے حصے لے لیں۔
یادرہے امسال تقریب دستاربندی دارالعلوم زاہدان چھبیس رجب المرجب چھ جون 2013 کو منعقد ہوگی۔