دی نیوز ٹرائب کے نمائندے کے مطابق واقعہ وسطی کرم کے پہاڑی علاقے سیواک میں پیش آیا۔
جے یو آئی ف کے تحت ایک بڑے مدرسہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ 37 اور 38 کا مشترکا جلسہ منعقد کیا گیا تھا جس میں قریبا ساڑھے 3 ہزار افراد شریک تھے۔
پارٹی امیدوار منیر خان اورکزئی اور سابق پارلیمنٹیرین نے بھی شرکاء سے خطاب کیا ، جلسہ ختم ہوتے ہی اسٹیج کے قریب زور دار دھماکا ہوا۔
دھماکے کے بعد بھگدڑ مچ گئی جب کہ سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ اسپتال پارہ چنار منتقل کرنا شروع کردیا۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک بتائی جارہی ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرز اسپتال پارہ چنار میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
پارٹی سیکرٹری کے مطابق منیر خان اورکزئی کے اسٹیج سے اترتے ہی دھماکا ہوا تاہم وہ بال بال بچ گئے جب کہ ان کا محافظ زخمی ہوا۔
جے یو ائی کے سیکرٹری نے بتایا کہ این اے 37 کے امیدوار عین الدین شاکر بھی اس دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق دھماکا ریموٹ کنٹرل کے ذریعے کیا گیا اور بارودی مواد اسٹیج کے قریب نصب تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…