شدید نوعیت کے دھماکے کے بعد ان کی سلامتی سے متعلق مختلف افواہیں گردش کرنے لگی تھیں جن کا منہ بند کرنے کے لئے شام کے سرکاری نیوز چینل ‘الاخباریہ’ نے اپنے خبرنامے میں دھماکے کے بارے میں خبر دیتے ہوئے ایک ویڈیو نشر کی جس میں وائل الحلقی کو کابینہ کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
ویڈیو میں الحلقی نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں اور بعد میں انہوں نے شامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کابینہ کے جاری اجلاس کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں ذرا بھی اس بات کا تاثر نہیں دیا کہ وہ اپنے قافلے پر ہونے والے بم دھماکے میں بال بال بچے ہیں۔ دمشق کے مقامی وقت صبح نو بجے الحلقی کے قافلے پر اس وقت بم حملہ کیا گیا جب ان کا قافلہ دمشق کے وسطی علاقے المزہ سے گزر رہا تھا۔ اس حملے میں ان کا ذاتی محافظ اور ڈرائیور جاں بحق ہو گئے۔
ادھر شامی انقلاب کونسل کے دیب الدمشقی نے کہا ہے کہ اس حملے میں ظاہر کی جانے والی تعداد سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے چند لمحے بعد ہی شامی وزیر اطلاعات کے جائے حادثہ کا دورہ کیا۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق الحلقی کے قافلے پر حملہ المزہ پبلک پارک اور سکول کے قریب ہوا۔ جس علاقے میں بم دھماکا کیا گیا وہاں سیکیورٹی انتہائی سخت رکھی جاتی ہے اور اس علاقے میں سفارتخانے، حکومتی اور انٹلیجنس اداروں کے دفاتر اور اہم سیاسی شخصیات کی رہائش گاہیں ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…