افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے جن دس غیر ملکی افراد کو گزشتہ روز یرغمال بنا لیا تھا ان کی اچھی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔
ملک کے مشرقی صوبے لوگر میں گزشتہ روز خراب موسم کے سبب ایک ہیلی کاپٹر کو ایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑی تھی جس وجہ سے اس ہیلی کاپٹر میں سوار سبھی افراد کو یرغمال بنا لیا گيا۔
اطلاعات کے مطابق اس ہیلی کاپٹر میں سات ترک انجینئیر، دو روسی ہوا باز اور ایک افغان شہری سوار تھے۔
علاقے کے افسران نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جن قبائیلی عمائدین نے ان افراد کو دیکھا ہے ان کے مطابق انہیں غذا فراہم کی جا رہی ہے اور خیال رکھا جا رہا ہے۔
طالبان نے بھی بی بی سی کو بتایا ہے کہ یرغمال بنائے گئے تمام افراد اچھی حالت میں ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ لوگ بہت تھکے ہوئے تھے اس لیے ان سے ’ بہت زیادہ بات چيت نہیں ہوسکی۔‘
ان کا کہنا تھا ’ اگر انہیں چیک اپ کے لیے کسی ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی یا صحت کا کوئي دوسرا مسئلہ ہوتا تو اس کے لیے ہمارے پاس اچھے ڈاکٹر کے ساتھ طبّی عملہ موجود ہے۔‘
ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ یرغمالیوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے ابھی طالبان کی قیادت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ ان کیا کیا جائےگا۔
انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ قبائیلی عمائدین نے ان کی رہائي کے لیے طالبان سے بات چيت کے لیے رابطہ کیا ہے۔
لیکن اس سے قبل لوگر کے مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عمائدین نے یرغمالیوں کو دیکھا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ طالبان نے اب تک کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا ہے۔
بعض افسران نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ممکن ہے طالبان ان افراد کو سرحد پار کر کے پاکستان کے علاقے میں لے کر چلے جائیں۔
عذرا کے جس مقام پر ہیلی کاپٹر اترنے کا وقعہ پیش آيا تھا وہ پاکستانی سرحد سے کافی قریب ہے اور اس علاقے میں طالبان کا اثر و رسوخ بھی زیادہ ہے۔
مقامی حکام کے مطابق اس ہیلی کاپٹر میں سات ترک انجینیئر تھے لیکن ترکی کے وزات خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کے آٹھ شہری اس میں سوار ہوئے تھے۔
افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کہتے ہیں کہ افغانستان میں ہر روز تقریباً ایک سو سویلین ہیلی کاپٹروں کی پروازیں ہوتی ہیں۔ وہ دور دراز علاقوں میں واقع جگہوں تک امدادی سامان اور کارکن لے کر جاتے ہیں۔ زیادہ تر ہیلی کاپٹر روسی کمپنیوں سے کرائے پر لیے گئے ہیں۔
یہ علاقہ پاکستان کی سرحد سے بہت قریب ہے۔ ضلعے کے گورنر حمیداللہ حامد نے بتایا کہ یہاں افغان سرکاری فورسز موجود ہیں لیکن طالبان کا غلبہ ہے۔
افغانستان میں ترکی کے تقریباً اٹھارہ ہزار فوجی ہیں جو نیٹو افواج کے ساتھ کام کرتے ہیں لیکن ان کا کام صرف گشت کرنے تک محدود ہے۔ ترکی اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات رہے ہیں۔
بی بی سی اردو