ججز نظر بندی کیس میں عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست خارج کرتے ہو ئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تاہم سابق صدر پرویز مشرف کو ان کی سیکیورٹی پر مامور سیکیورٹی اہلکار انہیں وہاں سے لے کر فرار ہو گئے۔
اس موقع پر وکلا نے پرویز مشرف کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 3 نومبر 2007ء کو پی سی او کے نفاذ، ججوں کی معزولی اور انہیں گھروں میں نظر بند کرنے کیخلاف مقدمہ میں گذشتہ سماعت پر سابق صدر پرویز مشرف کی پانچ، پانچ لاکھ روپے کے دو مچلکوں پر 6 روزہ عبوری ضمانت منظور کی تھی اور انہیں آئندہ سماعت پر عدالت کو اس بات پر قائل کرنے کی ہدایت کی تھی کہ وہ ماتحت عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوئے۔
فاضل عدالت نے پرویز مشرف کو تفتیش میں پولیس سے تعاون اورمقدمہ کی تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کی جبکہ سرکار اور مدعی مقدمہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 18 اپریل تک ملتوی کر دی تھی۔
تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کے حکم پر 11 اگست 2009ء کو پرویز مشرف کیخلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔
مدعی مقدمہ چوہدری محمد اسلم گھمن کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 3 نومبر 2007ء کے پرویز مشرف کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کی وجہ سے پاکستان کا عدالتی نظام تباہ ہوا جس سے نہ صرف وکلاء برادری اور عوام الناس کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کی بھی بدنامی ہوئی۔
ایف آئی آر کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007ء کو غیر قانونی، غیر اخلاقی پی سی او کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 60 ججوں کو معزول کر کے انہیں گھروں میں نظر بند کر دیا اور انہیں ساڑھے پانچ ماہ تک حبس بے جا میں رکھا گیا۔
لہٰذا پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ بعد ازاں عدالت میں پیش نہ ہونے پر سول جج اسلام آباد محمد عباس شاہ نے 18 دسمبر 2012ء کو پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیدیا تھا۔
مشرف کا فرار عالمی میڈیا پر مذاق بن گیا
پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا ضمانت منسوخ ہونے کے بعد عدالت سے فرار غیر ملکی میڈیا کی شہہ سرخیوں کا حصہ بن گیا، جس نے اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستان کے فوجی آمر پرویز مشرف ہمیشہ کہتے تھے کہ وہ جیل جانے سے خوفزدہ نہیں، مگر جیسے ہی عدالت نے ان کی ضمانت منسوخ کی وہ فرار ہوگئے، جوکہ سابق صدر کے لیے ایک اور جھٹکا ہے، جن کا اقتدار میں آنے کا خواب کاغذات نامزدگی منسوخ ہونے کے بعد چکناچور ہوتا محسوس ہورہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے نومبر 2007ء میں ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران ججز کی نظربندی کے معاملے پر مشرف کی ضمانت منسوخ کی۔
اخبار کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ وطن واپس آنے والے مشرف کی واپسی پر تجزیہ کاروں نے کہہ دیا تھا کہ سابق صدر کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس سلسلے میں نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے ضمانت منسوخ ہونے کے بعد ڈرامائی انداز میں فرار ہوکر سب کو دنگ کردیا۔
ٹیلیویژن فوٹیج سے معلوم ہوتا ہے کہ ضمانت منسوخ ہوتے ہی مشرف اپنے سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ عدالتی احاطے سے نکلے اور جلدی سے گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔
اخبار کے مطابق مشرف کا یہ فرار پاکستانی سیاست میں واپسی کی خواہش کے لیے ایک اور دھچکا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی تاریخ میں کسی سابق آرمی چیف کو ممکنہ طور پر جیل جانا پڑے گا۔
برطانوی اخبار گارڈین کا کہنا ہے کہ سابق پاکستانی فوجی صدر پرویز مشرف ضمانت منسوخ ہوتے ہی عدالت سے فرار ہوکر اپنے پرتعیش ولا میں روپوش ہوگئے ہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اپنے محافظوں کے ذریعے مشرف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر موجود پولیس کو دور بھگایا اور پھر جلدی سے گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔
ٹیلیگراف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پرویز مشرف کے فرار کے بعد یہ واضح نہیں کہ ریٹائرڈ جنرل کو کب اور کیسے گرفتار کیا جائے گا، حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ وہ کہاں روپوش ہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو اس وقت 3 مقدمات میں گرفتاری و سزا کا سامنا ہے، جن میں ججز نظر بندی کیس، بے نظیر بھٹو قتل کیس اور اکبر بگٹی قتل کیس شامل ہیں۔
دی نیوزٹرائب+جنگ نیوز