این ڈی ایم اے کے چیئرمین بریگیڈیئر سجاد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس زلزلے سے 150 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ تقربیاً 150 مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔
امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ آٹھ تھی اور اس کا مرکز پاکستان کی سرحد کے قریب ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں خش اور سراوان کا درمیانی علاقہ تھا۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تحصیل ماشکیل کا علاقہ اس زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور بیشتر ہلاکتیں بھی اسی تحصیل میں ہوئی ہیں۔
پاکستانی فوج کے مطابق متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور امدادی ٹیموں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایف سی کے اہلکاروں نے متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں ہے اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے بھی امداد پہنچائی جا رہی ہے۔
ماشکیل کے مقامی صحافی فاروق قبدانی نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ علاقے میں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کی مدد کی جبکہ کچھ زخمیوں کو کوئٹہ اور دالبندین کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
امدادی کارروئیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ رات کو تو کوئی خاص کام شروع نہیں ہوا تاہم بدھ کی صبح ہی فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متعدد زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا اور اس کے علاوہ باقی ریلیف کے کام میں تاخیر ہے۔
اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ان کے ادارے سے امداد طلب کی گئی تو وہ مدد کے لیے تیار ہیں جبکہ امریکہ نے بھی امداد کی پیش کش کی ہے۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…