مسلمانوں کو زیادہ سکیورٹی ملنی چاہیے:سوچی

برما کی حزبِ اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی نے کہا ہے کہ بدھ اکثریت کے ملک برما میں مسلمانوں کو زیادہ سکیورٹی ملنی چاہیے۔
گذشتہ ماہ برما میں نسلی فسادات میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
سوچی نے کہا کہ وہ ہر طرح کے تشدد کے خلاف ہیں اور یہ کہ مسلمانوں اور بدھوں کے درمیان تشدد برما کی جمہوری اور معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
جاپان کے دورے کے دوران بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ برمی حکومت کو شہریت کے قوانین پر نظرِثانی کرنی چاہیے تاہم انھوں نے یہ نہیں کہا کہ آیا برما میں مقیم آٹھ لاکھ مسلمانوں کو شہریت دے دینی چاہیے یا نہیں۔
اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ انھوں نے نسلی فسادات کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا، سوچی نے کہا کہ ان کی توجہ ہم آہنگ معاشرہ تشکیل دینے پر تھی، نہ کہ خبروں کی شہ سرخیوں میں آنے پر۔
انھوں نے ایک پریس کانفرنس کو بتایا، ’درحقیقت میں نسلی اقلیتوں کے بارے میں ہر وقت بات کرتی رہتی ہوں۔ لیکن میرے بیانات اتنے رنگا رنگ نہیں ہوتے کہ سب کو خوش کر سکیں۔
اصل میں میں رنگارنگ بیانات کی زیادہ قائل نہیں ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ بعض لوگوں کو میرے بیانات اتنے دلچسپ نہیں لگتے کہ وہ ان پر توجہ دیں۔‘
سوچی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ امن نوبیل انعام یافتہ سوچی نے نسلی خونریزی کے کئی واقعات پر زبان بند رکھی۔
مارچ میں تشدد کی ایک لہر کے دوران کئی مسجدیں اور مسلمانوں کے گھر تباہ کر دیے گئے تھے اور کم از کم 43 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ تشدد واضح طور پر منصوبہ بندی کے تحت ہوا تھا۔
گذشتہ برس فسادات کے دوران مغربی ریاست رخائن سے دسیوں ہزار روہنگیا مسلمان بے گھر ہو گئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق روہنگیا دنیا کی سب سے زیادہ ستائی جانے والی قوموں میں سے ایک ہیں۔
سوچی نے کہا کہ وہ مسلمان رہنماؤں سے ملی ہیں اور انھیں ان کے دکھ کا اندازہ ہے۔’یہ بات بہت افسوس ناک ہے کیوں کہ ان سب کا برما کے علاوہ کوئی اور وطن نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا، ’انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے، یہ بات تکلیف دہ ہے کہ انھیں یہ محسوس کروایا جا رہا ہے کہ وہ ہمارے ملک کے باسی نہیں ہیں۔ یہ بات افسوس ناک ہے۔‘
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا، ’روہنگیا ملک کے شہری ہیں یا نہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا وہ ملک کی شہریت کے قوانین پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔‘
روہنگیا کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم سے تعلق رکھنے والی کرس لیوا نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ برما کے مسلمانوں کو اس بات سے مایوسی ہوئی ہے کہ سوچی نے اپنے بیانات میں مسلمانوں کے دفاع میں زیادہ صاف گوئی سے بات نہیں کی۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago