ایران اور پاکستان کے درمیان سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں تباہ کن زلزلہ آیا ہے جس کے نتیجے میں ایرانی علاقے میں کم سے کم چالیس افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے سے چونتیس افراد ہلاک اور اسی زخمی ہوگئے ہیں۔
منگل کو پچھلے پہر آنے والے زلزلے کی ریختر سکیل پر شدت 8۔7 تھی اور اس کے جھٹکے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی اور خلیجی ریاستوں دبئی اور بحرین تک محسوس کیے گئے ہیں۔امریکا کے جیالوجیکل سروے کی اطلاع کے مطابق زلزلے کامرکز ایران کے جنوب مشرق میں واقع پہاڑی اور صحرائی علاقے میں تھا۔یہ علاقہ ایران کے شہر زاہدان سے 200 کلومیٹر جنوب مشرق میں اور پاکستان کے شہر تربت سے 250کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔
پاکستانی حکام نے صوبہ بلوچستان میں زلزلے سے چونتیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور پاک ایران سرحد پر واقع علاقے ماش خیل میں اسی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔شدید زلزلے کے نتیجے میں سیکڑوں مکانات ،دکانیں اور دیگر عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔پاک آرمی نے ماش خیل کے علاقے میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے دو ہیلی کاپٹر بھیج دیے ہیں۔
ایران کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا ہے کہ چالیس سال کے بعد ملک میں یہ سب سے شدید زلزلہ ہے اور اس سے ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں میں ہوسکتی ہے۔
ایران میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ایرانی صوبہ سیستان ،بلوچستان کے گورنر حاتم نیروئی کا کہنا ہے کہ ”خوش قسمتی سے زلزلے کے نتیجے میں کوئی ہلاکتیں نہیں ہوئی ہیں”۔لیکن قبل ازیں ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے زلزلے سے چالیس افراد کی ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی۔تاہم رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان ہلاکتوں کی سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت دوسرے شہروں کوئٹہ ،پشین ،قلعہ عبداللہ ،چاغی ،سبی ،جعفر آباد ،کراچی پنجگور،حیدرآباد ،بدین اور راول پنڈی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ان کے علاوہ صوبہ خیبر پختنونخوا کے دارالحکومت پشاور ،ڈیرہ اسماعیل خان اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں بھی زلزلہ آیا ہے۔
گذشتہ ہفتے ایران کے دارالحکومت تہران سے بارہ سو کلومیٹر جنوب میں واقع شہر بوشہر میں جوہری پاور پلانٹ کے نزدیک علاقے میں 1۔6 کی شدت کے زلزلے کے نتیجے میں سینتیس افراد ہلاک اور ساڑھے آٹھ سو زخمی ہوگئے تھے۔زلزلے سے دو دیہات تباہ اور سیکڑوں مکانات منہدم ہوگئے تھے۔
بلوچستان میں زلزلہ؛ عوام کے نام مولانا عبدالحمید کا پیغام
ممتاز عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایرانی وپاکستانی بلوچستان میں رونما ہونے والے شدید اور غیرمعمول زلزلے کے حوالے سے عوام کے نام ایک پیغام میں کہاہے اللہ تعالی کی وارننگ کو سنجیدگی سے لیکر توبہ واستغفار کرنا چاہیے۔
مذکورہ پیغام کے ایک حصے میں آیاہے: ’تمام بندوں کو اللہ کی گرفت ومواخذہ سے ڈرنا چاہیے۔ یہ زلزلہ اللہ رب العزت کی جانب سے تھا تاکہ ہم خبردار وچوکس ہوجائیں، اپنے اعمال میں مثبت تبدیلی لائیں، اسی کی طرف رجوع کرکے اپنے اعمال کی اصلاح کریں۔‘
پیغام میں آیاہے: ’آج (منگل) کے شدیدزلزلے کو گزشتہ نصف صدی میں غیرمعمول قرار دیا جارہاہے، بظاہر اس زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں لوگوں کاانتقال ہونا چاہیے تھا، لیکن ایران میں صرف چند لوگوں کو چوٹیں آئیں، اب تک کسی کی جان نہیں گئی؛ یہ سب اللہ تعالی کا فضل وکرم ہے۔اس واقعے نے ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈالاہے۔‘
توبہ واستغفار پر زور دیتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے مزیدکہا: زلزلے کی ہوشربا شدت کے باجود کم لوگوں کا متاثر ہونا قرآن پاک اور اسلامی احکام وشریعت پر عمل کرنے کی برکت سے ممکن ہوا۔ لہذا اللہ کا لاکھ شکر بجالانے کے علاوہ اخلاص کے ساتھ توبہ کرنی چاہیے اور اس کے دربارمیں تضرع واستغفار کرنا چاہیے۔
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے مزیدکہا: اس بات کا امکان ہے بعض لوگ اللہ کی اس وارننگ کو سنجیدگی سے نہ لیں اور اپنے برے اعمال سے توبہ نہ کریں، ایسے لوگوں کا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ انسانیت کی خیروکامیابی اسی میں ہے کہ ایسے سگنلز کا درست جواب لیکر اپنی اصلاح کی محنت کرے، اسی صورت میں لوگ اللہ کی سزا بچ جائیں گے، ان شاء اللہ۔
یادرہے برادرملک پاکستان میں زلزلے کی تباہ کاریوں کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد مہتمم دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالحمید نے ہمارے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا ایسے حالات میں صبرواستقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔
متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کااظہار کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے تمام مسلمانوں خاص کر خطے کے عوام سے درخواست کی اپنی حدتک متاثرین کی بحالی کی کوشش کریں ۔
Abdolhamid.net/SunniOnline.urdu+العربیہ ڈاٹ نیٹ