تحریک طالبان پاکستان نے امریکی شہر بوسٹن میں ہونے والے دھماکوں سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی شہر بوسٹن ہونے والی تاریخی میراتھن میں دھماکوں کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور 144 زخمی ہوگئے ہیں، کئی زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔
منگل کو پاکستانی طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکا ہمارے حملوں کا ہدف ہے لیکن بوسٹن میں ہونے والے حملوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں جہاں کہیں بھی موقع ملا ہم امریکیوں کو نشانہ بنائیں گے۔
اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستانی طالبان نے اس سے قبل 2010ء میں ٹائمز اسکوائر پر ہونے والے بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی ذمے داری قبول کی تھی۔
ان حملوں کے بعد نیو یارک سے لاس اینجلس تک سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی تھی جس سے 11/9 کے حملوں کی یاد تازہ ہوگئی تھی۔
تحریک طالبان پاکستان کو ایک انٹرنیٹ وڈیو میں یکم مئی 2010 کو نیو یارک کے ٹائمز اسکوائر پر ہونے والے کار بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور ان دھماکوں کے الزام میں پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان نے شہزاد کو ٹریننگ دینے یا اس سے کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کر دیا تھا۔
شہزاد نے اپنے ٹرائل کے دوران بتایا تھا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ 40 دن گزارے اور اس دوران بم بنانے کی تربیت لی تھی لیکن امریکا واپس آنے پر انہوں نے اکیلے ہی بم دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
اس کے علاوہ انہیں ایک وڈیو میں ٹی ٹی پی کے کمانڈر حکیم اللہ محسود کے ساتھ بیٹھے ہوئے دکھایا گیا تھا جس میں طالبان کمانڈر نے اہم امریکی شہروں کو نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
ڈان نیوز