امریکی ریاست میساچوسٹس کے دارالحکومت بوسٹن میں میراتھن ریس کے دوران یکے بعد دیگرے 3 دھماکوں کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور 132 سے زائد زخمی ہوگئے۔
امریکی خبررساں ادارے دی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق میراتھن ریس کے 117 ویں ایڈیشن کے دوران دھماکے 20 سیکنڈ کے وقفے سے اختتامی لکیر کے پاس ہوئے۔
امریکی ٹی وی کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور132سے زائد زخمی ہوگئے جن میں سے متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دھماکوں کے بعد ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنا شروع کردیا گیا ہے۔
ایک عینی شاہد نے امریکی ٹی وی کو بتایا کہ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ پورا شہر لرز اٹھا،ہرطرف افراتفری کا عالم تھا،دھماکوں کے بعد ہرطرف انسانی اعضا اور خون بکھر گیا۔
بتایا گیا ہے کہ 1997ء میں شروع ہونے والی میراتھن ریس کے 117ویں ایڈیشن میں دنیا بھر سے 96 ممالک کے 26 ہزار افراد شریک تھے۔
ادھر صدر اوباما نے دھماکوں کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ تحقیقات کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کریں۔
دھماکوں کے بعد مقامی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جب کہ پولیس نے علاقے کو سیل کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نیویارک کے مطابق بوسٹن میں دھماکوں کے بعد نیویارک ،واشنگٹن سمیت متعدد ریاستوں میں سیکورٹی سخت کردی گئی ہے اور انسداد دہشتگردی کے اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں۔
دی ٹرائب نیوز