- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

شامی فوج نے انقلاب کی علامت مسجد العمری کا مینار شہید کر دیا

شامی فوج کے ایک حملے میں ملک میں جاری انقلابی تحریک کے گڑھ درعا کی مسجد العمری کا ایک مینار شہید ہو گیا۔ اس امر کا انکشاف سماجی رابطے کی ویڈیو ویب سائٹ ‘یو ٹیوب’ پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیو رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

جمعہ کے روز بنائی جانے والی ویڈیو میں مسجد مینار کی شہادت کے جلو میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ نیز اس منظر کو براہ راست دیکھنے والوں کی خوف اور غم کے مارے نکلنے والی چیخیں بھی صاف سنائی دے رہی ہیں۔

ایک اور ریکارڈ شدہ ویڈیو میں شہید مینار دکھائی دے رہا ہے اور اردگرد شہید مینار کا ملبہ موجود ہے۔ اس مناظر کے جلو میں آنے والی آوازوں سے صاف پتا چلتا ہے کہ منظر دیکھنے والے افراد اس کارروائی کی ذمہ داری بشار الاسد نواز شامی فوج پر ڈال رہے ہیں۔

اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے جنگجووں نے مارچ کے اواخر تک درعا میں شامی انتفاضہ کے مرکز مسجد العمری کی بازیانی کی کوشش کرتے رہے۔ یاد رہے کہ اسی مسجد میں 18 مارچ 2011ء کو احتجاجی مظاہرہ کرنے والے افراد شریک تھے جو صدر بشار الاسد کے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ساتویں صدی میں خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں تعمیر ہونے والی مسجد العمری کا معرکہ شامی اپوزیشن کے لئے ایک خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ امسال 23 سے 25 مارچ کی مدت کے دوران شامی حکومت نے مسجد العمری پر ایک خونریز حملہ کیا جس میں 31 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ یاد رہے کہ یہ مسجد حکومت مخالف اجلاسوں کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ جزوقتی ہسپتال کا فریضہ بھی سرانجام دے چکی ہے۔ اسے کچھ مدت کے لئے گولا بارود ذخیرہ کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

 

شام میں فوجی کارروائی، خواتین اور بچوں سمیت 57 افراد جاں بحق، ہیومن رائٹس واچ

شام کے درعا صوبے کے دو شہروں میں صدر بشار الاسد کی حامی افواج کی کارروائیوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 57 افراد جاں بحق ہوئے۔

یہ بات شام میں حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری فارہیومن رائٹس کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہی گئی۔ رپورٹ کے مطابق النامین اورغباغیب  شہروں میں شامی مسلح افواج کی بے رحمانہ کارروائی کے دوران 6بچے، 7خواتین، 16انقلابی جنگجو، 16دیگر نامعلوم افراد اور صدر بشار الاسد کے حامی 12فوجی اہلکار مارے گئے۔

ادارے کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صدر بشار الاسد کی افواج نے دونوں شہروں میں کارروائی  ان شہروں کے قریب ایک فوجی پوسٹ پر تعینات 12اہلکاروں کے انقلابوں کیساتھ مل جانے کے ایک دن بعد کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ فوجیوں نے کارروائی کے دوران متعدد گھروں پر شدید گولہ باری کی۔ ادھر حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق شام کی فضائیہ عام شہریوں پر جان بوجھ کر اور بلاتفریق فضائی حملے کر رہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے شام کے شمال مشرقی علاقوں میں 52 ایسے مقامات کا دورہ کیا جہاں اس طرح کے 59 حملے کیے گئے۔ تنظیم کے مطابق شام میں جاری تنازع کے دوران ہونے والی تقریباً ستر ہزار ہلاکتوں میں سے زیادہ تر حکومت کی غیرقانونی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے چین اور روس پر تنقید بھی کی ہے کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شام کے خلاف کارروائی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے سال 2012 میں اگست سے دسمبر تک شام کے شہر حلب، ادلیب اوراذقیہ میں ان جگہوں کا دورہ کیا جو حزب مخالف کے کنٹرول میں ہیں۔

اے ایف پی+العربیہ۔نیٹ