عراق کے جنوبی شہر بصرہ کے نواح میں ایک کار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں دس افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوگئے ہیں۔
بصرہ کی صوبائی کونسل کی سکیورٹی کمیٹی نے بتایا ہے کہ اتوار کی صبح گیارہ بجے کے قریب شہر کے نواح میں ایک بس اڈے پر کار بم حملہ کیا گیاجس سے پانچ افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔اس سے قبل بصرہ کے وسط میں ایک اور کاربم دھماکا ہوا۔اس حملے میں ایک سرکاری عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور صرف دوافراد زخمی ہوئے ہیں۔
فوری طور پر کسی گروپ نے بصرہ میں ان دونوں کاربم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن عراق میں القاعدہ سے وابستہ گروپ ریاست اسلامی عراق پر شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر بم حملوں کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔بصرہ عراق کے وسطی ،شمالی اور مغربی شہروں کے مقابلے میں پرامن خیال کیا جاتا ہے اور یہاں دوسرے شہروں کی نسبت کم ہی بم دھماکے ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ عراق سے 2011ء میں امریکی فوج کے انخلاء کے بعد سے تشدد کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور ہرماہ دوتین سو افراد خودکش بم حملوں،بم دھماکوں یا تشدد کے دوسرے واقعات میں مارے جا رہے ہیں۔ فروری میں عراق کے مختلف شہروں میں تشدد کے واقعات میں 220افراد ہلاک ہوئے تھے۔
عراق میں ہلاکتیں
برطانیہ میں قائم ”عراق باڈی کاؤنٹ” نامی ادارے نے آج ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق 19 مارچ 2003ء کو امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کی عراق پر چڑھائی کے بعد سے ایک لاکھ بارہ ہزار شہری مارے جاچکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اس تعداد میں جنگ کے تمام فریقوں (متحارب فوجوں) کے مہلوکین کو بھی شامل کرلیا جائے تو پھر ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ چوہتر ہزار سے بڑھ جائے گی۔اس تعداد میں وہ مہلوکین شامل نہیں،جن کی اس تنظیم کواطلاع نہیں ہوسکی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ” یہ تنازعہ ابھی تاریخ نہیں بنا ہے کیونکہ اس کا آغاز تو بالکل واضح تھا لیکن اس کا انجام ابھی تک نظر نہیں آرہا ہے”۔اس رپورٹ میں گذشتہ ایک عشرے کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 112017 اور 122438 کے درمیان بتائی گئی ہے۔
اس سے قبل گذشتہ جمعرات کو امریکا کی براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی مطالعات نے ”جنگی منصوبے کی لاگت” کے نام سی ایک رپورٹ جاری کی تھی۔اس رپورٹ میں فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق عراق جنگ میں ایک لاکھ چونتیس ہزار شہری مارے گئے تھے اور اس جنگ کے مابعد اثرات کے نتیجے میں اس سے چار گنا زیادہ اموات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
اس مطالعے کے مطابق عراق میں جنگ کے دوران اگر سکیورٹی فورسز ،مزاحمت کاروں ،صحافیوں اور انسانی امدادی کارکنان کی ہلاکتوں کو بھی شمار کر لیا جائے تو پھر ایک لاکھ چھہتر ہزار سے ایک لاکھ نواسی ہزار کے درمیان انسان اس جنگ کا ایندھن بنے تھے۔
عراق جنگ سے متعلق یہ رپورٹ جامعہ براؤن کے ماہرین تعلیم اور اساتذہ نے مرتب کی تھی اور اس کو 19 مارچ 2003ء کو امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کے عراق پر حملے کے دس سال پورے ہونے سے چند روز قبل جاری کی گئی تھی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ