لاطینی امریکہ کے ملک وینزویلا کے نائب صدر نکولس مدورو نے اعلان کیا ہے کہ صدر اوگو چاویس اٹھاون سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔
اٹھاون سالہ صدر چاویس گزشتہ ماہ کیوبا میں کینسر کے علاج کے بعد ملک واپس پہنچے تھے لیکن ان کی طبیعت سنبھل نہ سکی۔
صدر اوگو چاویس پچھلے ایک ماہ سے منظرِ عام پر نظر نہیں آئے تھے۔
نائب صدر نے اوگو چاویس کے انتقال پر سات روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ چاویس کی تدفین جمعہ کو کی جائے گی۔
ملکی آئین کے تحت نیشنل اسمبلی کے صدر قائم مقام صدر کے فرائض اس وقت تک انجام دیں گے جب تک صدارتی انتخابات نہیں ہو جاتے۔
ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ملک میں صدارتی انتخابات کب ہونگے۔
نائب صدر کے ساتھ ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت بھی موجود تھی جب انہوں نے ٹی وی پر صدر چاویس کے انتقال کا اعلان کیا۔
آبدیدہ نائب صدر نکولس مدورو نے صدر چاویس کے انتقال کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صدر تقریباً دو سال تک شدید بیماری سے جنگ کرتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں۔
ایک دن پہلے صدر چاویس کی سانس کی بیماری زیادہ شدت اختیار کر گئی تھی اور وہ سانس کے ایک نئے شدید انفیکشن میں مبتلا ہو گئے تھے۔
ملک کے وزیر اطلاعات ایرنیسٹو ویلیگس نے اس سے قبل کہا تھا کہ صدر چاویس کی نازک حالت برقرار ہے۔
دارالحکومت کیراکس کے فوجی ہسپتال سے وزیر اطلاعات نے بات کرتے ہوئے کہا کہ’آج سانس کا انفیکشن شدت اختیار کر گیا ہے۔‘
صدر چاویس کے کینسر کی تشخیص جون سنہ دو ہزار گیارہ میں ایک سرجری کے دوران ہوئی تھی اور اٹھارہ ماہ میں ان کے چار آپریشن ہوئے تھے۔
چند دن پہلے ملک کے نائب صدر نکولس مدورو نے کہا تھا کہ صدر اوگو چاویس زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
نائب صدر نے وینزویلا کے ٹی وی کو بتایا تھا کہ’ہمارے کمانڈر بیمار ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی ان لوگوں کے لیے وقف کر دی تھی جن کے پاس کچھ نہیں تھا۔‘
نائب صدر نکولس مدورو نےجنہیں صدر اوگوچاویس کا چنا ہوا جانشین سمجھا جاتا ہے۔
آنجہانی اوگو چاویس چودہ سال تک اقتدار میں رہے۔
بی بی سی اردو