کراچی میں کل عباس ٹاؤن میں پیش آنے والے اندوہناک واقعے کے خلاف آج ہڑتال اور سوگ ہے۔ پنجاب حکومت نے بھی کراچی دھماکے پر یوم سوگ کا اعلان کیا ہے ۔
کراچی میں ہڑتال کی اپیل مختلف شیعہ تنظیموں نے کی ہے جس کی دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور تنظیموں نے بھی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ہڑتال کے باعث شہر میں تمام تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند ہیں۔ ٹرانسپورٹر نے بھی آج گاڑیاں نہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔
سندھ اور پنجاب حکومت نے بھی آج سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان ہے۔ قومی پرچم آج دن بھر سرنگوں رہے گا۔
ہڑتال اور یوم سوگ کی وجہ سندھ اسمبلی کا آج ہونے والا اجلاس بھی بدھ تک ملتوی کردیا گیا۔ سانحہ عباس ٹاؤن پر مجلس وحدت مسلمین نے دس ۔۔ تحفظ عزاراری کونسل نے سات جبکہ شیعہ علماء کونسل نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثناء وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی زیرصدارت رات گئے امن وامان سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں آئی جی سندھ نے رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں عباس ٹاؤن سانحہ کی تحقیقات کیلئے چھ رکنی ٹیم کا بھی اعلان کیا گیا۔
اتوار کی شام کراچی شہر میں واقع شیعہ اکثریتی محلے عباس ٹاؤن میں دو دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں کم سے کم 45 لوگ جس میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں ہلاک ہوئے اور 135 سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔
دھماکہ عباس ٹاؤن کے شروع میں واقع دو اپارٹنمٹ بلاکز کے بیچ میں مغرب کے وقت ہوا۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال اٹھارہ نومبر کو بھی اسی جگہ دھماکہ ہوا تھا۔ دھماکہ موٹر سائیکل پر بندھے ہوئے دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے کیا گیا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ دھماکہ امام بارگاہ کے قریب کیا گیا تھا۔
لیکن دھماکے کی وجہ سے دو برابر مین واقع بلاک رابیعہ فلاورز اور اقرا سٹی کو تقصان پہنچا۔ دونوں بلاک کے گراؤنڈ فلور اور پہلے فلور کو زیادہ نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ کچھ اپارٹمنٹ راکھ کا ڈھیر بن گئے۔
رپورٹوں کے مطابق کچھ رہائشی دھماکے کے اثر کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور بم کے ٹکڑوں سے زخمی ہوئے۔
رات گئے امدادی کارکن کو کم سے کم تین لاشیں راکھ میں دبی ہوئی مل چکیں ہیں جبکہ مزید لاشوں کے ملنے کا خدشہ موجود ہے۔
اوپر ممنزلوں کی بالکونیوں میں آگ لگ گئی اور آگ اپارٹمنٹ کی چوتھی منزل سے لپک رہی تھی۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق 40 سے 50 اپارٹمنٹ اور 10 دکانیں تباہ ہوئیں۔
قانون نافذ کرنے والے حکام واقعے کے بعد کچھ دیر تک جائے وقوہ سے دور رہے۔
ایسٹ کراچی ڈی آئی جی علیم جعفری نے شبہ ظاہر کیا کہ دھماکے میں بارود سے بھری ہوئی گاڑی کی مدد لی گئی ہے۔
انہوں نے بم ڈسپوزل یونٹ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈان کو بتایا کہ 150 سے زیادہ ہائی دھماکہ خیز مواد بال بیرنگ کے ساتھ استعمال کیا گیا اور وقت ڈیوائس کی مدد سے اڑایا گیا۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ دھماکے سے چار فٹ گہرا اور دس فٹ پڑا گڑھا پڑا۔ اور تقریباً 700 میٹر دور تک کا علاقہ دھماکے سے متاثر ہوا۔
تاہم پولیس کو ایک انجن اور گاڑی کے کچھ حصے ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دھماکہ گاڑی کے ذریعے کیا گیا لیکن ابھی تک گاڑی کی تفصیلات نہیں مل سکیں ہیں۔
سندھ کے سیکرٹری صحت ڈاکٹر سریش کمار نے کہا ہے کہ دھماکے میں تقریباً 45 لوگ ہلاک ہوئے اور زیادہ سے زیادہ 135 زخمی ہوئے جو کہ مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ 32 لیاقت نیشنل میں، 17 عباسی شہید میں، 12 جے پی ایم سی اور ایک سول ہسپتال میں۔
زیادہ تر زخمیوں کو پہلے پٹیل ہسپتال لے کر جایا گیا۔
امدادی کارکن نے بتایا کہ کچھ لاشیں مکمل طور پر جل چکیں ہیں اور انہیں پہچانا نہیں جایا سکتا۔ اور آدھی رات کو کچھ لاشوں کو مختلف امام بارگاہوں میں کولڈ اسٹوریج میں رکھ دیا گیا ہے۔
شیعہ علماء کونسل
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں علامہ ناظر عباس نے کہا کہ ملک میں شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حملوں میں بے گناہ افراد مارے جارہے ہیں جسے روکنے میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر کالعدم تنظیموں کے خلاف پولیس اور رینجرز کے ذریعے ٹارگٹڈ آپریشن کرے۔
انہوں نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لئے جمعرات تک مہلت دیتے ہوئے کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو گورنر اور وزیراعلی ہاؤس کا گھیراؤ بھی کیا جاسکتا ہے۔
واقعے کی مذمت
اس کے علاوہ صدر آصف علی زرداری ، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ، میاں نواز شریف، الطاف حسین،ثروت اعجاز قادری سمیت سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کراچی میں دھماکے کی مذمت کی ہے۔
صدر زرداری نے واقعے میں ہلاک افراد کےلواحقین کو پندرہ پندرہ لاکھ روپے اور زخمی افراد کو فی کس دس لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی کیا۔
ڈان نیوز