پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے قلات میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے سینیئر صحافی محمود آفریدی کو ہلاک کر دیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق محمود آفریدی قلات میں ایک بس اڈے کے قریب سے گزر رہے تھے جب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔
قلات پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او نے بی بی سی کو بتایا کہ محمود آفریدی پر بازار میں فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔
محمود آفریدی قلات کے سینیئر صحافی تھے اور وہ اردو اخبار ’انتخاب‘ اور نجی ٹی وی چینل ’نیوز ون‘ سے منسلک تھے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کچھ عرصے میں صحافیوں کو ہلاک کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی کے سینیئر صحافی ملک ممتاز کو بدھ کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق ملک ممتاز میرانشاہ بازار میں کسی شخص کی وفات پر تعزیت کے بعد میرانشاہ گاؤں میں اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ چشمہ پل کے قریب ان پر فائرنگ کی گئی۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس سے پہلے تیرہ صحافیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔اس سے پہلے شمالی وزیرستان ایجنسی میں صحافی حیات اللہ کو سنہ دو ہزار چھ میں اغواء کرنے کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ گزشتہ سال اگست میں ایک صحافی رحمت اللہ کو اغواء کر لیا گیا تھا۔
اس سے پہلے پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے چیف رپورٹر خوشنود علی جو گز شتہ روز کراچی میں اپنی رہائش گاہ کے قریب سڑک کے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
سینیئر صحافی خوشنود علی سوموار کی رات گیارہ بجے اپنے دفتر سے گھر واپس جارہے تھے کہ کراچی میں گلستانِ جوہر میں اپنی رہائش گاہ کی قریب سڑک پار کرتے ہوئے ایک تیز رفتار گاڑی نے انہیں ٹکر ماری۔ انہیں قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔
واضح رہے کہ صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی پی جے) کے مطابق صحافیوں کے لیے پاکستان دنیا کا پانچواں خطرناک ملک ہے۔
تنظیم کے مطابق پاکستان میں سنہ انیس سو چورانوے سے لیکر اب تک اکاون صحافی مارے جا چکے ہیں جن میں ہدف بنا کر مارے جانے والوں کے تعداد ساٹھ فیصد ہے۔ جبکہ سی پی جے کے امپیونٹی انڈیکس (قاتلوں کے سزا سے استثنیٰ ) میں بھی پاکستان کا نمبر دسواں ہے۔
بی بی سی اردو