عینی شاہدین نے بتایا کہ چالیس انتہا پسند یہودیوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول پر چڑھائی کی۔ یہودی آبادکار مسجد اقصی اور پہاڑی کے گنبد میں آزادانہ گھومتے رہے۔ یہودی آبادکاروں نے وہاں موجود نمازیوں پر حملہ بھی کیا جس سے ایک فلسطینی نمازی کو درمیانے زخم آئے۔
یہودی آبادکاروں کے مسجد میں داخلے کی خاطر انہیں اسرائیلی پولیس کی مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ اس دوران فلسطینیوں کی مسجد اقصی کی جانب نقل و حرکت کو انتہائی محدود کر دیا تھا۔ آبادکار مسجد میں اپنی موجودگی کے دوران مسلسل مسلمانوں کو اشتعال دلانے والی حرکات کرتے رہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید