شام کے دارالحکومت دمشق کے وسطی علاقے میں حکمراں جماعت بعث پارٹی کے ہیڈکوارٹرز کے نزدیک ایک زوردار کار بم دھماکے میں تریپن افراد ہلاک اور دوسو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔
شام کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے اس کار بم دھماکے کو “دہشت گردی” کا حملہ قرار دیا ہے اور صدر بشار الاسد کے خلاف بر سرپیکار باغی جنگجوؤں پر اس کا الزام عاید کیا ہے۔ لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ خودکش بمبار نے دمشق کے علاقے المزرعہ میں بعث پارٹی کے ہیڈکوارٹرز کے نزدیک ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ پراپنی بارود سے بھری گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔
آبزرویٹری کے مطابق حملہ آور نے ایک مرکزی شاہراہ پر واقع بعث پارٹی کے دفاتر ہی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس نے پہلے اکتیس افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اور بائیس شدید زخمی اسپتال میں جاکر دم توڑ گئے ہیں۔ دمشق کے گورنر بشر سبحان کا کہنا ہے کہ گاڑی پر ایک سے ڈیڑھ ٹن کے درمیان بارود لدا ہوا تھا۔
بم دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے شاہراہ پرڈیڑھ میٹر چوڑھا گہرا گڑھا پڑگیا اور وہاں کھڑی بیس کاریں جل گئیں اور چالیس مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں یا انھیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ بم دھماکے کے بعد دھویں کے سیاہ بادل آسمان کی جانب بلند ہورہے تھے۔شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کا کہنا ہے کہ المزرعہ کا علاقہ گنجان آباد ہے اور بم دھماکے میں نزدیک واقع ایک اسکول کے بچے بھی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
دوسرے میڈیا اداروں نے پولیس حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ کار بم دھماکا دمشق کے وسط میں واقع روسی سفارت خانے اور صدر بشار الاسد کی جماعت بعث پارٹی کے ہیڈکوارٹرز کے درمیانی علاقے میں ہوا ہے۔
روس کی خبر رساں ایجنسی اترتاس نے ایک سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بم دھماکے سے روسی سفارت خانے کی عمارت کو نقصان پہنچاہے اور اس کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔تاہم واقعے میں سفارت خانے کا کوئی ملازم زخمی نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ دمشق کے وسطی علاقے میں اس سے پہلے تشدد کے کم ہی واقعات پیش آئے ہیں جبکہ باغیوں نے شامی دارالحکومت کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے اور وہ صدر بشار الاسد کے طاقت کے مرکز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔
المزرعہ میں اس تباہ کن کاربم دھماکے کے بعد دمشق کے دوسرے علاقوں میں تین اور بم دھماکے ہوئے ہیں۔آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق شمال مشرقی علاقے البارزہ میں ایک سکیورٹی مرکز کے باہر ایک اور کار بم دھماکا ہوا ہے۔تاہم اس واقعہ میں مرنے یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔شامی ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ایک ممکنہ خودکش بمبار کو حملے سے قبل گرفتار کر لیا ہے اور اس کی کار سے پانچ بم برآمد ہوئے ہیں۔ان میں ایک بم تین سو کلو گرام وزنی تھا۔
ادھر شام کے جنوبی شہر درعا میں سرکاری فوج کے جنگی طیاروں نے باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس سے اٹھارہ افراد مارے گئے ہیں۔عبداللہ مسلمہ نامی ایک باغی کمانڈر نے بتایا کہ جنگی طیاروں نے شہر کے قدیم حصے حیی السعد میں پانچ فضائی حملے کیے ہیں۔اس علاقے میں باغی جنگجوؤں نے اپنا کنٹرول سنبھالنے کے بعد چیک پوائنٹ قائم کر رکھے تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں