صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر رحیم یار خان میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے مبینہ سربراہ ملک اسحاق نے خود کو پولیس حکام کے حوالے کردیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں کوئٹہ میں تباہ کن بم دھماکے کی تفتیش کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔
رحیم یار خان کے سنئیرپولیس افسر اشفاق گجر نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک اسحاق کو جمعہ کو ان کی ائیرپورٹ روڈ پر واقع رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا ہے اور انھیں تفتیش کے لیے ایک ہائی سکیورٹی والی جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔
ضلعی پولیس افسر ظفر چٹھہ نے کہا کہ لشکر جھنگوی نے کوئٹہ میں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی ہے اور ملک اسحاق اس کے سپریم کمانڈر ہیں،اسی لیے ہم نے انھیں اور کالعدم تنظیم کے چوبیس اور جنگجوؤں کو گرفتار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کی نقض عامہ کے قانون کے تحت گرفتاری عمل میں آئی ہے اورانھیں تفتیش کی غرض سے ایک ماہ تک زیرحراست رکھا جائے گا۔
ملک اسحاق نے اپنی گرفتاری سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اہل سنت والجماعت کے نائب صدر ہیں اور ان کا کوئٹہ بم دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ اپنی گرفتاری کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔
واضح رہے کہ ملک اسحاق نے 1990ء کے عشرے میں کالعدم مذہبی تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے ایک اور لیڈر ریاض بسرا کے ساتھ مل کر لشکر جھنگوی بنائی تھی اور اس تنظیم پر اہل تشیع کی شخصیات اور ان کے مذہبی اجتماعات پر متعدد حملوں کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ریاض بسرا چند سال قبل ایک پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔
انھیں 1997ء میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک صوبے کی مختلف جیلوں میں قید رہے تھے لیکن عدالتوں میں ان کے خلاف عاید کردہ مختلف نوعیت کے چالیس الزامات ثابت نہیں کیے جاسکے تھے جس کے بعد انھیں عدالت نے بری کردیا تھا اور انھیں جولائی 2011ء میں چودہ سال کی قید کے بعد جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔
ملک اسحاق کو گذشتہ سال فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے الزام میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا لیکن چند روز کے بعد ہی انھیں رہا کردیا گیا تھا۔ان پر 2009ء میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام بھی عاید کیا گیا تھا حالانکہ اس وقت وہ جیل میں قید تھے۔
ادھر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مہدی حسن نے ملک اسحاق کی گرفتاری کا خیرمقدم کیا ہے اورحکومت سے اہل تشیع پر حملوں میں ملوث تمام افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں 16 فروری کو پانی کی ٹینکی میں چھپائے گئے کئی کلو بارود کے دھماکے میں نوے افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔اس سے پہلے 10 جنوری کو ایک اسنوکر کلب پر خودکش بم حملے میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان دونوں واقعات میں مارے گئے زیادہ تر افراد کی تعلق اہل تشیع سے تھا۔
لشکر جھنگوی نے ان دونوں تباہ کن بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ملک اسحاق کی گرفتاری پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے اس بیان کے بعد عمل میں آئی ہے جس میں انھوں نے پاکستان آرمی کے کسی بھی کالعدم دہشت گرد گروپ سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ مسلح افواج کا لشکر جھنگوی سمیت کسی بھی جنگجو گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے پاک فوج پر الزام عاید کیا تھا کہ اس کا لشکر جھنگوی سے کوئی تعلق ہے۔یہ الزام اکتوبر 2009ء میں راول پنڈی میں پاک آرمی کے جنرل ہیڈکوارٹرز(جی ایچ کیو) پر مسلح جنگجوؤں کے حملے کے تناظر میں عاید کیا گیا تھا۔اس موقع پر ملک اسحاق کو دہشت گردوں سے مذاکرات کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جی ایچ کیو لایا گیا تھا اور یہ بھی قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں کہ جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات میں کردار کی وجہ سے ہی ان کی جیل سے رہائی ممکن ہوئی تھی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ