عراق کے شمالی شہر موصل میں خود کش دھماکے میں سینئر انٹیلی جنس افسر اور دو گارڈز ہلاک ہو گئے جبکہ ایک اور دھماکے میں مزید دو افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
عراق کو اس وقت سیاسی بحران کا سامنا ہے کیونکہ وزیر اعظم نوری المالکی کو ان کے ہی حکومتی حامیوں کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے اور اس وقت ان کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ملک میں چند ماہ میں انتخابات بھی ہونے والے ہیں اور ایسے میں ان پرتشدد واقعات کے رونما ہونے سے ملک کی صورتحال مزید گمبھیر ہو سکتی ہے۔
پولیس اور اسپتال ذرائع کے مطابق موصل کے علاقے تل افار میں انٹیلی جنس اکیڈمی کے سربراہ بریگیڈیئر عونی علی کے باہر خود کش دھماکہ ہوا جس میں وہ اور ان کے دو محافظ ہلاک ہو گئے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق شمالی بغداد میں سلیمان پاک نامی گاؤں میں ایک جج کی گاڑی بم لگا دیا گیا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔
احمد البیاتی اس وقت دیوانی مقدمات کے جج تھے اور اس سے قبل انسداد دہشت گردی کے مقدمات کی تفتیش کے دوران ان کو دھمکیاں بھی موصول ہوئی تھیں، گزشتہ سال ان کے بیٹے کو بھی اغوا کر لیا گیا تھا جسے ڈیڑھ لاکھ ڈالر تاوان کی ادائیگی کے بعد چھوڑا گیا تھا۔
اس کے علاوہ ہیت میں سڑک کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے آرمی لیفٹیننٹ ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
ابھی تک کسی بھی گروپ نے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی تاہم عام طور پر انتہاپسند عسکریت پسند اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے گروپ اس طرح کی کارروائیاں کرتے ہیں تاکہ حکومت کو غیر مستحکم کرتے ہوئے دوبارہ 2005 سے 2008 کے درمیان ہونے والے فرقہ قتل عام کی طرف دھکیلا جا سکے۔
عراق میں گزشتہ ہفتوں کے دوران پرتشدد واقعات اور بم دھماکوں میں اضافہ ہوا ہے اور اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ستمبر کے بعد جنوری ہلاکتوں کے اعتبار سے سب سے زیادہ خطرناک رہا۔
ڈان نیوز