پاکستان کےصوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے کیرانی روڈ پرمارکیٹ میں زوردار دھماکا ہوا ہے جس میں اب تک 79 افراد ہلاک اور کم از کم 200 زخمی ہو گئے ہیں۔
کوئٹہ کے سی سی پی او میر زبیر محمود نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس دھماکے میں ستر سے اسی کلو کے قریب دھماکہ خیز مواد استعمال کیاگیا۔
دھماکہ کیرانی روڈ پر واقع ایک اسکول کے قریب ہوا، یہ علاقہ ہزارہ ٹاؤن کے قریب واقع ہے جہاں شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی ہزارہ برداری کے افراد کی اکثریت آباد ہے۔
ذرائع کے مطابق ریموٹ کنٹرول دھماکے سے علاقے میں کھڑی تمام گاڑیاں، کئی دکانیں اور عمارتیں بھی تباہ ہوگئیں۔
دھماکے کے بعد پولیس اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور کسی کو بھی علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی تاکہ کسی دوسرے دھماکے کی صورت میں نقصان سے بچا جاسکے۔ نمائندہ جنگ کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ، ریسکیو اداروں اور سیکیورٹی فورسز پر مشتعل افراد کی جانب سے پتھراو کیا گیا جبکہ علاقے میں فائرنگ بھی ہوئی۔ دھماکے کے بعد کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی اور مشتعل افراد نے گاڑیوں پر پتھراو کیا جس کے باعث متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
گورنر بلوچستان سردار ذولفقار مگسی نے اتوار کو اس واقعے پر صوبے بھر میں سوگ کا اعلان کیا ہے اور تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم اتوار کو سر نگوں رہے گا۔
اس کے ساتھ ہی گورنر بلوچستان نے ہلاک ہونے والے تمام افراد کے لواحقین کے لیے دس دس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔
یاد رہے کہ اس سےقبل گزشتہ ماہ 10 جنوری کو کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ پر اسنوکر کلب کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کم از کم 81 افراد ہلاک اور 120 زخمی ہو گئے تھے۔
شیعہ تنظیم مجلس وحدت مسلمین نے بھی دھماکے کی مذمت کی ہے اور اتوار کو کوئٹہ میں ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان کی نمایاں سیاسی و مذہبی شخصیات نے پرزور الفاظ میں واقعے کی مذمت کی ہے۔ کوئٹہ کی بعض مقامی جماعتوں نے آج ہونے والی ہڑتال کی حمایت کی ہے۔
اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے ترجمان نے بی بی سی کو فون کر کے قبول کی ہے۔
جنگ+بی بی سی