- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

مصر:حکومت مخالف پُرتشدد مظاہرے،ایک شخص ہلاک ،80 زخمی

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدارتی محل کے نزدیک سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک اور پچاس زخمی ہو گئے ہیں۔

العربیہ کی اطلاع کے مطابق نماز جمعہ کے بعد سیکڑوں مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے صدارتی محل کے بیرونی دروازے تک پہنچ گئے اور انھوں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔اس دوران سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے انھیں روکا تو ان کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

مظاہرین نے صدارتی محل کی جانب پتھر اور پیٹرول بم پھینکے اور بیرونی دروازے کو نذرآتش کردیاجبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور ان پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔

قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر احتجاج کے علاوہ ہزاروں افراد نے میدان التحریر میں بھی نماز جمعہ کے بعد ریلی نکالی ہے اور صدر مرسی کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔وہ ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے تھے۔مظاہرین نے اپنے اس الزام کا اعادہ کیا کہ کہ محمد مرسی نے صدر منتخب ہونے کے بعد انقلاب کے نعروں سے انحراف کیا ہے اور وہ انقلاب کے مقاصد کو پس پشت ڈال کر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔

میدان التحریر میں حزب اختلاف کی اپیل پر مظاہرے کو ”یوم العظمت” کا نام دیا گیا تھا۔حزب اختلاف کی اڑتیس جماعتوں اور تحریکوں نے حکومت مخالف شخصیات کے قتل کے فتوے کے خلاف لوگوں سے احتجاج کی اپیل کی تھی۔

حزب اختلاف کے حامیوں نے قاہرہ کے علاوہ ملک کے ستائیس صوبوں کے مختلف شہروں میں نماز جمعہ کے بعد ریلیاں نکالی ہیں۔مظاہرین صدر محمد مرسی سے قومی حکومت کی تشکیل اور نئے آئین میں ترامیم کا مطالبہ کررہے تھے۔وہ عدلیہ کی آزادی برقرار رکھنے کا بھی مطالبہ کررہے تھے۔

نیل ڈیلٹا کے صوبے غربیہ کے مختلف شہروں اور قصبوں میں بھی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع ملی ہے،ان میں اٹھائیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندیہ میں بھی صدر مرسی کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں اور وہاں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں پانچ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

مصر میں یہ مظاہرے جامعہ الازہر کے ایک پروفیسر اور عالم دین محمود شعبان کے اس فتوے کے ردعمل میں بھی کیے گئے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ حزب اختلاف کے لیڈروں کا قتل جائز ہے۔انھوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حکومت مخالف جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سابق سربراہ محمد البرادعی اور شکست خوردہ صدارتی امیدوار حمدین صباحی کے قتل کی حمایت کی تھی۔

ایک اور سخت گیر عالم دین وجدی غنیم نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ملک کو جلانے والے ٹھگوں ،جرائم پیشہ افراد اور چوروں کو قتل کردیا جانا چاہیے”۔تاہم انھوں نے کسی خاص فرد کا نام نہیں لیا تھا۔

ان اشتعال انگیز فتووں کے بعد قاہرہ میں مظاہروں سے قبل محمد البرادعی اور حمدین صباحی کی رہائش گاہوں پر وزارت داخلہ کے حکم پرسکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔

مصر کے ایوان صدر نے ان فتووں کو دہشت گردی قرار دے کر ان کی مذمت کی ہے۔ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”بعض لوگ سیاسی تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ بعض سیاسی اختلافات کی بنا پر مذہب کے نام پر دوسروں کو قتل کرنے کی شہ دے رہے ہیں۔یہ دہشت گردی ہے”۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں