مصر کی معروف تاریخی درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے پر زور دیا ہے کہ وہ “ایران میں اہل سنت کو مکمل حقوق دیدیں اور خلیجی ممالک کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرکے بحرین کا برادر
انہوں نے اہل السنت و الجماعت مسلک کے پیروکار ملکوں میں شیعہ ازم کے فروغ کی کوششوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
اس سے قبل بھی الازہرالشریف کے شیخ نے ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات کے دوران ایرانی اہل سنت کے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا، انہوں نے شیعہ علماء سے مطالبہ کیا صحابہ کرام خاص کر امہات المومنین اور سیدہ عایشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کی حرمت میں فتوا دیدیں۔
ایران صدر اور شیخ الازہر کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے یونیورسٹی کے بیان میں احمد الطیب نے ‘محمود احمدی نژاد سے مطالبہ کیا کہ وہ بحرین کا برادر عرب ہمسایہ ملک احترام کریں اور خلیجی ملکوں کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔’ شیخ الازہر نے کہا میں اہل السنت و الجماعت مسلک کے پیروکار ملکوں میں شیعہ ازم کے پھیلاؤ کو مسترد کرتا ہوں۔’
ایرانی صدر سے اپنی ملاقات میں شیخ الازہر نے سنی مسلک کے پیروکار ممالک میں شیعہ مداخلت اور اہل سنت والجماعت مسلک کو گزند پہنچانے کی کوششوں کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصر ماضی اور اب بھی اہل السنت و الجماعت کا گڑھ ہے۔ الازہر الشریف اہالیاں مصر اور بالخصوص نوجوانوں میں شیعہ ازم کو فروغ دینے کی کوششوں کو یکسر مسترد کرتا ہے۔
احمد الطیب نے ایران میں بعض لوگوں کی طرف سے امہات المؤمنین بالخصوص حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنھم کے خلاف نازیبا کلمات کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مصر کی عظیم درسگاہ کے نمائندے کے طور پر میں ایسی سرگرمیوں کو مسترد کرتا ہوں۔
شیخ الازہر نے ایرانی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ برادر ملک شام میں خون خرابہ رکوانے اور وہاں امن قائم کرنے میں مدد کے آگے بڑھیں۔ انہوں احمد نژاد سے ایران میں اہل السنت کو مکمل حقوق دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے جامعہ الازہر کی ایک ہزار سال قدیم علمی تاریخ کو سراہتے ہوئے کہا امت کا اتحاد ہمارے درمیان مشترک امر ہے۔ انہوں نے الازہر الشریف کی سپریم علماء کونسل سے اپیل کی کہ وہ شیعہ اور سنیوں کو قریب لانے کا مقصد پورا کرنے میں تعاون کریں تاکہ تاریخی مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ اور سنیوں کے درمیان کسی قسم کے اختلافات نہیں پائے جاتے۔
ایران میں انقلاب کے بعد احمدی نژاد مصر کا دورہ کرنے والے پہلے لیڈر ہیں، مسٹراحمدی نژاد کے اس دورے کو ‘تاریخی‘ قرار دیا جارہاہے جو تین سے زائد عشروں کے بعد کسی اعلی ایرانی عہدیدار کا دورہ مصر ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر کے خلاف احتجاج کرنے پر4 افراد کوگرفتارکرلیا گیا۔ ملزمان میں ایک شام کا شہری بھی شامل ہے۔
ایرانی صدرمنگل کی رات قاہرہ کی ایک مسجد میں نمازادا کرنے گئے تو بعض افراد نےان کی موجودگی پر احتجاج کیا، ایک شخص نے ان کی طرف جوتا بھی پھینکا تاہم وہ بال بال بچ گئے۔
صدراحمدی نژاد الحسین مسجد میں نمازادا کررہے تھے۔
اس واقعے کی ایک ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حملے کی کوشش کرنے والے شخص نے صدر احمدی نژاد کو ’بزدل‘ کہا اور انہیں جوتا دکھایا۔
ابھی یہ معلوم نہیں ہوا ہے کہ اس حملے کے پیچھے کیا مقصد تھا حالانکہ بعض رپورٹوں میں کہا جارہا ہے اس کی وجہ ایران کی شامی حکومت کو حمایت ہے۔
خبررساں ادارے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…