پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں جامعہ اسلامیہ بنوریہ کے صدر مفتی اور ان کے نائب سمیت تین افراد شہید ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ جمعرات کو شاہراہِ فیصل پر نرسری کے علاقے میں پیش آیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق نامعلوم حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے اور انہوں نے جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے صدر مفتی عبدالمجید دین پوری کی گاڑی پر فائرنگ کی۔
اس حملے میں مفتی عبدالمجید کے علاوہ ان کے نائب “مفتی محمد صالح” اور جامعہ درویشیہ کے پیش امام مولانا لیاقت علی کے بیٹے حسن علی شاہ بھی شہید ہوگئے۔
پنجاب کے علاقے خان پور سے تعلق رکھنے والے مفتی عبدالمجید دین پوری کا شمار کراچی کے جید علمائے کرام میں ہوتا تھا۔ وہ گذشتہ آٹھ سال جامعہ بنوریہ میں درس وتدریس کے شعبے سے منسلک تھے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا سعید احمد جلالپوری سمیت جامعۂ بنوریہ کے متعدد علماء ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں شہید ہو چکے ہیں۔
مفتی عبدالمجید اور ان کے ساتھی مفتی محمد صالح کی نمازِ جنازہ جمعرات کی شام بنوری ٹاؤن میں ہی ادا کی گئی ہے۔
واقعے کے بعد کراچی کے متعدد علاقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور ہنگامہ آرائی کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ تنظیم اہلِ سنت والجماعت نے ان تینوں افراد کی شہادت پر تین روزہ سوگ اور جمعہ کو یومِ احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔
اہلسنّت و الجماعت کے سربراہ علامہ محمد احمد لدھیانوی نے کہا ہے کہ علما اہلسنّت کے قاتل اسلام کے کھلے دشمن ہیں، مفتی عبد المجید دین پوری شہیدکے قتل میں ملک اور اسلام دشمن عناصر ملوث ہیں۔
اہلسنّت و الجماعت علما کے قتل کی مذمت کرتی ہے، انھوں نے کہاکہ وفاقی وزیر داخلہ کے انکشاف کے فوراً بعد فروری سے پہلے ہی ہونے والے واقعات معنی خیز ہیں، عدالت عالیہ وفاقی وزیر داخلہ کے بیان پر ان سے تحقیقات کرے۔ حکومتی رویہ اہلسنّت عوام کو بغاوت پرمجبور کر رہا ہے۔
اہلسنّت و الجماعت کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات علامہ اورنگزیب فاروقی نے کہا ہے کہ حکومت ہمیں ہزاروں علما اور کارکنان کی لاشوں کے تحفوں کے سوا کچھ نہ دے سکی۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کافی عرصے سے جاری ہیں اور اس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ تازہ ترین واقعات میں بارہ سے زائد افراد ایک ہی دن میں قتل ہو گئے۔
خبررساں ادارے