شام میں جیش الحر نے ادلب شہر کی مرکزی جیل پر حملہ کر کے قیدیوں کو رہا کرا لیا ہے۔ حملے سے پہلے مظاہرین نے ایک عدالت کا محاصرہ کر لیا اور متعدد عمارتوں کو بم دھماکے سے اڑا دیا۔ جیل کا حفاظتی عملہ جیش الحر کے اچانک حملے کی تاب نہیں لا سکا۔ متعدد سرکاری فوجی موقع سے فرار ہو گئے یا پھر وہاں موجود اہلکاروں نے جیش الحر کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔
شامی اپوزیشن کے ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز جیش الحر کے جیل حملے میں تین سو قیدیوں کو رہائی دلوائی گئی۔ جیل حملے کے موقع پر بنائی گئی ویڈیو میں قیدیوں کی رہائی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویڈیو میں سرکاری فوجی اہلکار بھی حملہ آوروں کے ساتھ ملکر جشن مناتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
وسطی دمشق میں دھماکا
دوسری جانب ہفتے کی صبح شامی دارلحکومت دمشق میں زوردار دھماکے کی اطلاعات ملی ہیں۔ ادھر رکن الدین کالونی میں جیش الحر اور سرکاری فوجیوں کے درمیان لڑائی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ سرکاری فوج نے دمشق کے نواحی علاقے پر گولا باری کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے بعد سرکاری فوجیوں کی بڑی تعداد علاقے میں پھیل گئی۔
دمشق میں شامی فوج کے میڈیا سینٹر نے بتایا کہ دارلحکومت کی رکن الدین کالونی میں سرکاری فوج اور جیس الحر کے کارکنوں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بشار الاسد فوج کے توپخانے سے الحجر الاسود کالونی پر شدید گولا باری کی گئی، تاہم دمشق کے نواحی دیہات اور قصبات الغوطہ الشرقیہ بھی ہفتے کی صبح سے سرکاری فوج کی گولا باری کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
خونی دن
یاد رہے جمعہ کا دن شام میں خونی گزرا، جس میں 118 افراد جان سے گئے۔ مقامی کوارڈی نیشن کمیٹیوں کے مطابق متعدد کمیٹیوں نے بشار الاسد حکومت کے خلاف تمام تر پابندیوں کے باوجود احتجاجی مظاہرے کئے، جن میں ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔
العربیہ نیوز