امریکی صدر براک اوباما نے الجزائر کے شمالی صحرا میں واقع گیس فیلڈ پر کارروائی میں تئیس یرغمالی اہلکاروں کی موت کے لیے عسکریت پسندوں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔
الجزائر کے شمالی صحرا میں واقع گیس فیلڈ پر چار دن سے قابض عسکریت پسندوں کے خلاف الجزائری فوج کی کارروائی سنیچر کو مکمل ہو گئی تھی اور حکام کے مطابق کارروائی میں تئیس یرغمالی اور بتیس عسکریت پسند ہلاک ہوئے جبکہ کئی غیر ملکی ملازمین اب بھی لاپتہ ہیں۔
سنیچر کو ہونے والی فیصلہ کن کارروائی میں گیارہ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے تاہم کارروائی کے دوران وہ ساتوں غیرملکی بھی مارے گئے ہیں جنہیں عسکریت پسندوں نے یرغمال بنایا ہوا تھا۔
برطانیوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اتوار کو تصدیق کی کہ اس واقعے میں تین برطانوی شہری ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ مزید تین شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔
اس کے علاوہ ناروے کے پانچ شہری اور دس جاپانی شہری یا تو ہلاک ہوگئے ہیں یا لاپتہ ہیں۔ وہیں الجزائر کا کہنا ہےکہ اس کی فوج نے یرغمال بنانے والے بتیس افراد کو ہلاک کردیا ہے۔
صدر براک اوباما نے سنیچر کو کہا کہ ’یہ حملہ القاعدہ اور شمالی افریقہ میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں سے لاحق خطرہ کی یاد دہانی ہے۔‘
اس کے علاوہ فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نےالجزائر کی جانب سے مسئلے سے نمٹنے کی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب سے مناسب تھا۔
الجزائر کی سرکاری خبر رساں ادارے اے پی ایس نے ملک کے وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ گیس پلانٹ میں موجود 685 الجزائری اور 132 میں سے 107 غیر ملکی کارکنوں کو رہا کیا گیا ہے۔
سنیچر کو اس آپریشن کے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں فوجیوں نے اس ورکشاپ کوگھیرا جہاں عسکریت پسندوں نے کچھ غیرملکیوں کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔
راکٹ لانچروں اور مشین گنوں سے لیس عسکریت پسندوں نے مورطانیہ کی خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ ان کے پاس سات یرغمالی تھے۔
الجزائر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی ایس کے مطابق فوجی حکام نے کہا ہے کہ ساتوں یرغمالیوں کو عسکریت پسندوں نے ہی ہلاک کیا جبکہ عسکریت پسند فوجیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ تاہم اس خبر کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
ان ہلاکتوں سے قبل دو دن کے آپریشن میں بارہ افراد مارے گئے جن میں الجزائری اور غیر ملکی باشندے دونوں شامل ہیں۔
بعض یرغمالیوں کی قومی شناخت ابھی بھی واضح نہیں ہوئی ہے۔
برطانوی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے بعض برطانوی شہری جو عسکریت پسندوں کی گرفت میں تھے محفوظ وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔
حالانکہ برطانوی وزارت خارجہ نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں جاری کی ہیں۔
القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے بدھ کو ’ان امیناس‘ گیس فیلڈ پر قبضہ کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی الجزائر کے ہمسایہ ملک مالی میں فرانسیسی مداخلت اور مغرب میں القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کا ردعمل ہے۔
الجزائر کی فوج نے جمعرات سے گیس فیلڈ پر موجودد سینکڑوں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے آپریشن شروع کیا تھا اور اس دوران پانچ سو تہتر الجزائری شہریوں جبکہ ایک سو بتیس غیر ملکیوں میں سے سو کے قریب افراد کو بازیاب کروایا جا سکا تھا۔
ناروے کی آئل کمپنی سٹیٹ آئل نے جو برٹش پیٹرولیم اور الجزائر کی سرکاری تیل کمپنی سے مل کر یہ کارخانہ چلاتی ہے، سنیچر کی صبح بتایا تھا کہ اس کے مزید دو ملازمین محفوظ مقام پر پہنچے ہیں جبکہ چھ تاحال لاپتہ ہیں۔
فرانسیسی وزیرِ دفاع نے بھی سنیچر کو بتایا تھا کہ اب عسکریت پسندوں کے قبضے میں کوئی فرانسیسی شہری موجود نہیں۔
الجزائر کا کہنا تھا کہ یہ عسکریت پسند مختار بلمختار نامی عسکریت پسند کمانڈر سے احکامات لے رہے تھے۔ مختار گزشتہ سال تک مالی سے تعلق رکھنے والی عسکریت پسند تنظیم اے کیو آئی ایم (القاعدہ ان اسلامک مغرب) کے کمانڈر تھے۔
ان عسکریت پسندوں نے امریکی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے امریکہ میں قید پاکستانی نژاد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور مصری نژاد شیخ عمر عبد الرحمٰن کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا تھا جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایک امریکی فوجی اہلکار کو قتل کرنے کی کوشش کرنے پر 2010 میں جبکہ شیخ عمر عبدالرحمٰن کو نیویارک میں 1993 میں بم دھماکوں کے جرم میں سزا ہوئی تھی۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ نے کہا کہ’امریکہ دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کرتا۔‘
ادھر امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ القاعدہ کو کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔ ’ القاعدہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ اب انہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ نہ الجزائر میں نہ مالی میں کہیں بھی نہیں۔ ہم انہیں کہیں ایسی جگہ چھپنے نہیں دیں گے جہاں سے وہ اپنی دہشتگردی جاری رکھ سکیں۔‘
امریکہ کی سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی صورتحال کو ’مشکل اور خطرناک‘ قرار دیا تھا جبکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے لوگوں کو یرغمال بنائے جانے کو گھناؤنا جرم قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی اور کہا تھی کہ اس کارروائی کے منتظمین، اس کے معاونین اور اسے سرانجام دینے والوں کو قانون کے شکنجے میں لانا ضروری ہے۔
فرانس کی حکومت نے عسکریت پسندوں کے خلاف الجزائر کی حکومت کی کاروائی کی ستائش کی تھی وہیں برطانیہ کی حکومت کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں کی کاروائی کا کوئی جواز نہیں تھا۔

بی بی سی اردو