کرفیو کے نفاذ سے قبل لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان نے دارالحکومت طرابلس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم جنرل نیشنل کانگریس کے ساتھ رابطے اور مشورے کے ذریعے کرفیو سمیت مختلف سکیورٹی اقدامات پر غور کررہے ہیں”۔
انھوں نے کہا کہ ”بن غازی میں فوج اور پولیس کو تعینات کیا جائے گا اور امن وامان کی صورت حال بحال کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے”۔
لیبیا کے مشرقی شہر میں گذشتہ کئی ہفتوں سے کشیدگی پائی جارہی ہے اور منگل کو ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس افسر ہلاک ہوگیا تھا۔
ایک سکیورٹی عہدے دار نے اس واقعے کے بارے میں بتایا ہے کہ ”پولیس سارجنٹ صالح مفتاح وزری کی کار میں بم نصب کیا گیا تھا۔وہ جب ایک ریستوراں سے اپنے گھر کو واپس آرہے تھے تو ان کی کار دھماکے میں تباہ ہوگئی۔
سوموار کو بھی سڑک کے کنارے نصب بم سے پولیس کی ایک کار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اس واقعہ میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔بن غازی میں گذشتہ کئی ہفتوں سے فوجیوں اور پولیس افسروں کو بم حملوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔
بن غازی ہی میں گذشتہ سال ستمبر میں امریکا میں بنی اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاج کے دوران مسلح افراد نے امریکی قونصل خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور ان کے اس حملے میں لیبیا میں متعین امریکی سفیر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعہ کے بعد بیشترسفارتی مشنوں اور اقوام متحدہ کے تحت اداروں نے اپنی سرگرمیوں کو یا تو معطل کردیا تھا یا پھر محدود کردیا تھا۔
منگل کو ایک مسلح شخص نے اٹلی کے قونصل جنرل پر حملہ کردیا تھا۔اس حملے میں قونصل جنرل محفوظ رہے تھے لیکن اس ناکام حملے کے بعد اٹلی نے بن غازی میں عارضی طور پر اپنا قونصل خانہ بند کردیا ہے اورسفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔
طرابلس
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…