Categories: مشرق وسطی

عراق:خودکش بم دھماکوں میں 29افراد ہلاک ،240 زخمی

عراق کے دارالحکومت بغداد اور شمالی شہروں میں پے درپے بم دھماکوں میں انتیس افراد ہلاک اور کم سے کم دو سوچالیس زخمی ہوگئے ہیں۔
عراق میں بدھ کو تباہ کن کاربم حملے مخلوط آبادی پر مشتمل شمالی شہر کرکوک میں کیے گئے ہیں جہاں ایک ہی علاقے میں بارود سے لدی دو کاروں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔ان دھماکوں میں سولہ افراد ہلاک اور ایک سو نوّے زخمی ہوگئے ہیں۔

بغداد سے دوسو چالیس کلومیٹر شمال میں واقع شہر کرکوک کی پولیس کے بریگیڈئیر جنرل سرحد قادر نے بتایا ہے کہ ”دونوں کار بم دھماکوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور پولیس اہلکار کئی گھنٹے کے بعد بم دھماکوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے لاشوں اور زخموں کو نکال رہے تھے”۔

عراقی حکام کے مطابق کرکوک میں صبح کے مصروف اوقات میں ایک خود کش بمبار نے اپنے بارود سے بھری کار دھماکے سے اڑا دی۔حملہ آور نے بظاہر خودمختار شمالی علاقے کردستان کے صدر مسعود بارزانی کی جماعت کردستان ڈیمو کریٹک پارٹی (کے ڈی پی) کے علاقائی دفاتر کو نشانہ بنایا تھا۔

اس واقعہ کے تھوڑی دیر کے بعد ہی قریب واقع شاہراہ پر ایک اور کار بم دھماکا ہوا۔اس حملے میں کے ڈی پی کے ایک عہدے دار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔بریگیڈئیر قادر کے بیان کے مطابق دونوں بم دھماکوں میں عراقی سکیورٹی فورسز کے چھے اہلکار بھی ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔

شمالی عراق ہی میں واقع سرحدی قصبے طوز خرماتو میں ایک اور کار بم دھماکا ہوا۔اس میں چار افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔اس حملے میں عراقی صدر جلال طالبانی کی جماعت پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

ادھر دارالحکومت بغداد میں یکے بعد دیگرے پانچ دھماکے ہوئے۔ان میں چھے افراد مارے گئے ہیں۔بغداد سے شمال میں واقع تین شہروں بیجی ،حوائجہ اور تکریت میں الگ الگ بم دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔

عراق میں یہ بم دھماکے گذشتہ روز مغربی شہر فلوجہ میں خودکش بم حملے میں پارلیمان کے سنی رکن عفان العیساوی کی ہلاکت کے ایک روز بعد ہوئے ہیں۔آج ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود قبرستان کے نزدیک واقع سڑک پر نصب بم کے پھٹنے سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔

واضح رہے کہ مقتول عفان العیساوی مغربی صوبہ الانبار سے منتخب ہوئے تھے۔انھوں نے اس صوبے میں مارچ 2003ء میں امریکی فوج کے حملے کے بعد سراٹھانے والے القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا اورانھوں نے دوسرے قبائلی سرداروں کے ساتھ مل کر القاعدہ مخالف ملیشیا صحوۃ تشکیل دی تھی۔

عراق میں یہ بم دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب سنی اکثریتی صوبے الانبار میں وزیراعظم نوری المالکی کے خلاف دسمبر کے آخر سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔انھوں نے وزیرخزانہ رافع العیساوی کے محافظوں کی دہشت گردی کے الزامات میں گرفتاری کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی تھی۔وہ وزیراعظم مالکی سے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور انسداد دہشت گردی کے متنازعہ قانون کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔الانبار میں گذشتہ دوہفتوں سے سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور اس سے وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے لیے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔


بغداد
العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago