- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

اسلام آباد: قادری کے خلاف ایف آئی آر درج، دھرنا جاری

اسلام آباد کی پولیس نے حکومت کے خلاف تحریک برپا کرنے والے مذہبی سیاسی تنظیم منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کی قیادت میں ”سیاست نہیں ریاست بچاؤ” لانگ مارچ کے ہزاروں شرکاء نے سوموار کی رات سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمان ہاؤس کے سامنے ڈی چوک میں دھرنا دے رکھا ہے۔ڈاکٹر قادری کے خلاف ایف آئی آر اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس میں واقع کوہسار پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ہے۔

علامہ طاہرالقادری نے بدھ کو اپنے ہزاروں حامیوں سے نئے خطاب میں اپنے سابقہ مطالبات کا اعادہ کیا ہے کہ قانون اور آئین کے مطابق انتخابی اصلاحات کی جائے اور چیف الیکشن کمیشنر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز (حزب اختلاف) اور حکمراں پیپلز پارٹی کے درمیان اتفاق رائے یا مُک مُکا کے بغیر نگران حکومت تشکیل دی جائے۔ علامہ طاہر القادری نے کہا کہ ان کا لانگ مارچ ملک میں تبدیلی کا نقارہ بن چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے کل کے وزیر اعظم کے خلاف حکم کا پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے ان کے دھرنے سے تعلق جوڑنے والوں کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔ایسے لوگوں کو خود پر شرم کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ نے وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کو گرفتار کرنے کے لیے واضح حکم جاری کیا ہے۔ اس کے باوجود بعض وزراء اس سے انکار کر رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ احکامات وزیر اعظم کے لیے نہیں ہیں۔

علامہ طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔وہ کرپشن سے آلودہ نہیں۔انھوں نے عمران خان کو بھی دھرنے میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے سوموار کی شب اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب میں حکومت، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیاں کی برطرفی کے لیے منگل کی صبح گیارہ بجے تک کا وقت دیا تھا لیکن حکومت نے ان کے اس مطالبے کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

اس کے بعد علامہ طاہرالقادری نے بلٹ پروف باکس سے لانگ مارچ کے شرکاء سے دن کے وقت دوسرا خطاب کیا تھا۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے کرائے کے بجلی گھروں کی تنصیب سے متعلق کیس میں وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کی گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا۔ اس پر کینیڈا پلٹ علامہ کا کہنا تھا کہ ان کا آدھا کام ہو گیا ہے۔ باقی آدھا کل (آج بدھ) کو ہو جائے گا۔

عمران خان نے بھی گذشتہ روز صدر آصف علی زرداری سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ صدر زرداری کے ہوتے ہوئے ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہا بھی کہنا تھا کہ اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے خود ہی مک مکا کر کے نگران سیٹ اپ بنایا تو وہ ہمیں قابل قبول نہیں ہو گا۔

 


اسلام آباد
العربیہ ڈاٹ نیٹ