شامی فضائیہ کے مگ طیاروں سے حلب یونیورسٹی پر دو میزائل داغے گئے۔ پہلا میزائل العمارہ راؤنڈ اباؤٹ جبکہ دوسرا کیمپس ہوسٹل نمبر دو پر گرا۔ عینی شاہدین نے العربیہ کو بتایا کہ سیکیورٹی حکام نے مگ لڑاکا طیاروں کی بمباری سے قبل کیمپس کے دروازے بند کر دیئے تھے۔
اس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کے کیمپس سے باہر نکلتے ہی بمباری کر دی گئی۔ اس دوران یونیورسٹی کیمپس سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے والے طلبہ بمباری کا نشانہ بنے۔
بمباری کے وقت کیمپس میں موجود طلبہ نے بتایا کہ بمباری کے فورا بعد یونیورسٹی میں بشار الاسد کے حامیوں نے ان کے حق میں نعرہ لگانے شروع کر دیئے جبکہ ان کے یونیورسٹی فیلوز کے کٹے پھٹے لاشے خاک و خون میں لت پت پڑے تھے۔
بمباری کا نشانہ بننے والے طلبہ کے جسم کے ٹکڑے دور دور پھیل کئے۔ پچاس قابل شناخت نعشوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ یونیورسٹی میں آج پہلا پرچہ تھا جس کی وجہ سے کیمپس میں طلبہ کی حاضری سو فیصد تھی۔ سخت سردی کے باوجود طلبہ کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ اس سے قبل تعلیمی اداروں کو بشار الاسد کی حامی فوج نے اتنے بڑے پیمانے پر اپنا ہدف نہیں بنایا۔
شام کے سرکاری ٹی وی چینل نے حلب یونیورسٹی پر بمباری کے فورا بعد حملے کی نیوز بریک کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی کیمپس میں بم دھماکا نہیں بلکہ شامی فضائیہ کے طیاروں سے بمباری کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ ساری تفصیل حملے کے چند منٹ بعد ہی سرکاری ٹی وی کی بریکنگ نیوز میں نشر کی جا رہی تھی۔
شامی حکومت کے حامی ‘الدنیا’ ٹی وی کی ٹیم حملے کے چند ہی منٹ بعد بشار الاسد کی حمایت میں ریلی کو کور کرنے پہنچ گئی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حملہ کس قدر منظم طور پر کیا گیا۔
العربیہ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…