پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون طیارے نے عسکریت پسندوں کے کمپاؤنڈ پر میزائل فائر کیے جس میں کم از کم آٹھ عسکریت پسند جاں بحق اور چار زخمی ہوئے۔
میزائل سے شمالی وزیرستان کے علاقے میں میرانشاہ سے 25 کلو میٹر دور واقع گاؤں حیدر خیل اور حصوخیل میں عسکریت پسندوں کے ایک کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ مذکورہ علاقے کو القاعدہ اور طالبان کے عسکریت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
میرانشاہ کے ایک سیکیورٹی افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی ڈرون نے عسکریت پسندوں کے دو کمپاؤنڈ پر میزائل فائر کیے جس کے نتیجے میں کم از کم آٹھ عسکریت پسند جاں بحق ہوئے۔
ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ دو حملے ہوئے جس میں ہر کمپاؤنڈ میں چار عسکریت پسند جاں بحق ہوئے۔
پشاور سے ایک اور افسر نے حملے اور اس میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ البتہ دونوں افسران نے بتایا کہ ابھی تک جاں بحق ہونے والوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ اتوار کو بھی ڈرون سے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں میزائل داغے گئے تھے جن میں کم از کم 17 افراد جاں بحق اور سات زخمی ہوگئے تھے۔
آفیشل ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ڈرون حملوں میں خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور تحریک طالبان پاکستان کے قائد حکیم اللہ محسود کے کزن ولی محمد الیاس عرف طوفان محسود بھی جاں بحق ہو گئے تھے۔
امریکہ کے بغیر پائلٹ طیاروں کے حملے متنازعہ رہے ہیں۔ یہ پاکستان میں انتہائی غیر مقبول ہیں اور انہیں ملکی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے جس سے امریکہ مخالف جذبات بھڑکتے ہیں لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے بہت اہم ہیں انہیں نہیں چھوڑا جا سکتا۔
پاکستان ان حملوں کو ملکی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس طرح کے حملوں سے پاکستان میں انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ یہ حملے اس کی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف ہیں اور عوام میں امریکہ مخالف جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔
ان میں ہونیوالی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ستمبر میں قانونی گروپ ریپریو کی طرف سے تیار کی گئی رپورٹ میں 2562سے 3325افراد کی ہلاکتوں میں 474سے 881شہریوں کی ہلاکتوں کا اندازہ لگایا گیا ہے جو پاکستان میں 2004ء سے 2012ء تک کئے گئے ڈرون حملوں سے ہوئیں۔
ڈان نیوز