Categories: مشرق وسطی

شام:اپوزیشن نے ماسکو کی مذاکرات کی دعوت مسترد کردی

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے سربراہ معاذ الخطیب نے روس کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے ماسکو آنے کی دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔

روس نے جمعہ کو معاذ الخطیب کو مذاکرات کے لیے دعوت نامہ بھیجنے کی اطلاع دی تھی لیکن انھوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ پہلے ہی ماسکو کے دورے کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں اور وہ روس سے اس کی شامی صدر بشار الاسد کے لیے حمایت پر معافی چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ”ہم پہلے ہی واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم ماسکو نہیں جائیں گے لیکن اگر کوئی واضح ایجنڈا ہے تو پھر ہم کسی عرب ملک میں ملاقات کر سکتے ہیں”۔

معاذ الخطیب نے کہا کہ ”ہم روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے حالیہ دنوں میں اپنے بیانات میں کہا ہے کہ شامی عوام کسی غیر ملکی مداخلت کے بغیر اپنی قسمت کا فیصلہ کریں گے لیکن اس کے برعکس روس خود شام کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ شامی عوام کا قتل عام جاری ہے اور اس معاملے کو اس طرح لیا جا رہا ہے جیسے یہ کوئی پکنک ہے”۔

روس کی جانب سے شامی صدر بشار الاسد کی حمایت اور حزب اختلاف کے قومی اتحاد کو عوام کا نمائندہ تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ”اگر ہم شامی عوام کے نمائندہ نہیں ہیں تو وہ پھر کیوں ہمیں مدعو کر رہے ہیں؟ اگر ہم شامی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں تو پھر روس ہمیں جواب کیوں نہیں دیتا اور وہ اسد رجیم کی سفاکیت کا جواب کیوں نہیں دیتا؟ وہ بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کے لیے کیوں نہیں کہتا؟ ہماری یہ کسی بھی طرح کے مذاکرات کے لیے بنیادی شرط ہے”۔

حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے ترجمان ولید البنی نے بھی ایک بیان میں روس کی ثالثی میں شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”ان کا اتحاد کسی کے ساتھ بھی سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن یہ اسد رجیم کے ساتھ ہر گز بھی مذاکرات نہیں کرے گا”۔

ترجمان نے کہا کہ ”اسد رجیم اور اس کی بنیادوں کی رخصتی کے بعد ہی ہر چیز ممکن ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد ہم شامیوں کے ساتھ مل بیٹھیں گے اور ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے”۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی برائے شام الاخضر الابراہیمی ہفتے کے روز ماسکو پہنچ رہے ہیں جہاں وہ روسی حکام سے اپنے حالیہ دورۂ شام کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

انھوں نے جمعرات کو اپنے پانچ روزہ دورے کے اختتام پر دمشق میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شام میں گذشتہ اکیس ماہ سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے سیاسی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا تھا اور کہ تھا کہ شامی بحران کے حل کے لیے آیندہ انتخابات کے انعقاد تک عبوری حکومت قائم کی جانی چاہیے۔

 


دمشق
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago