- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

اسلام اعتدال وفطرت کا دین ہے

خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمیدنے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعے کاآغاز سورت النساء کی آیات26-28کی تلاوت سے کرتے ہوئے ہرانسان کی ابتدائی فطرت کی صفائی پر زوردیتے ہوئے فطرت اور میانہ روی کو اسلام کی راہ قرار دیا۔
انسان کی پاک فطرت اور قدرتی صلاحیتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: تمام انسانوں کو اللہ تعالی نے خداشناسی کی فطرت پر خلق فرمایاہے۔ جیساکہ حدیث شریف میں آتاہے: ’’کل مولود یولد علی الفطرۃ‘‘ ہر انسان بے عیب، شرک وبدعات اور کفر کی آلائشوں سے پاک فطرت پر پیدا ہوتاہے۔ فطرت وہی میانہ روی اور افراط وتفریط سے دوری کو کہاجاتاہے۔ لیکن انسان انحرافات اور ماحول میں موجودفسادات کی وجہ سے بگاڑ کا شکار ہوجاتاہے۔

زاہدان کی مرکزی عیدگاہ میں نمازجمعہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: لیکن اللہ سبحانہ وتعالی نے انسان کو شتربے لگام کی طرح اپنے حال پر نہیں چھوڑا۔ بلکہ قرآن پاک کے نزول اور اسلام کے احکام سے اسے راہ راست اور راہِ فطرت کی جانب بلایا؛ ’’اہدناالصراط المستقیم‘‘ کاسبق ہمیں اللہ نے دیا تاکہ ہم ہمیشہ سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی دعا مانگتے رہیں۔ ’’یریداللہ لیبین لکم و یہدیکم سنن الذین من قبلکم‘‘ کا مطلب بھی یہی ہے کہ گزشتہ قومیں فطرت سلیمہ اور راہ راست پر تھیں۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: مال وثروت اور ظاہری اسباب سب انسان کی راحت اور مادی حاجات کیلیے ہیں۔ انسان کو حلال روزی کیلیے محنت کرنی چاہیے اور یہ فطرت کے خلاف نہیں ہے؛ اسلام رہبانیت اور مکمل طورپر ترکِ دنیا کادرس نہیں دیتاہے۔ فطرت کے خلاف بات یہ ہے کہ انسان شدید حرص اور لالچ کے ساتھ روپے کے پیچھے پڑجائے اور اپنے خالق سے غافل ہوجائے۔ یہ افراط وتفریط کی مثال ہوگی۔ جو حلال حرام کو خاطر میں نہیں لاتے، نمازیں قضا کرتے ہیں، زکات ادا نہیں کرتے اور اللہ کے دیگر احکام کو دنیا کے حصول کی خاطر پاؤں تلے روندتے ہیں وہ اعتدال اور فطرت کی راہ سے بغاوت کرتے ہیں۔ ہرمسلمان کو اللہ اور اس کے رسول برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دل میں بسانا چاہیے اور شریعت کی اتباع کرتے ہوئے جائز طریقوں سے حلال روزی کمانا چاہیے۔ یادرکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سنتیں فطرت کے مطابق ہیں۔

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: آج کل دنیا میں جتنی جنگیں لڑی جاتی ہیں اور مشکلات وبحرانوں کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، ان تمام کی وجہ یہ ہے کہ فطرت اور اعتدال کی راہ سے نکل کر لوگ غلط رستے پر چلتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو کسی شخص کودوسروں سے شکایت نہ ہوتی اور دنیا میں عدل وانصاف قائم ہوتا۔ چونکہ یہ اللہ تعالی کاحکم ہے کہ دوسروں کے حقوق کاخیال رکھو تو ایسے لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں جوفطرت کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں، دوسری جانب جو لوگ اپنی انا اور شہوات کی پیروی کرتے ہیں اور میانہ روی سے دور ہوجاتے ہیں اللہ کی نفرت ان کے حصے میں آتی ہے۔ لہذا انسان کو ہمیشہ اپنے حقیقی محسن و منعم کے سامنے سرِ تعظیم خم کرنا چاہیے اور خشوع کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنی چاہیے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے جن لوگوں نے اپنی خواہشات کو چھوڑکر اعتدال سے کام لیا وہ دنیاوآخرت میں سرخرو ہوئے لیکن جنہوں نے اپنی فطرت سلیمہ کیخلاف بغاوت کی ان انجام بہت برا ہوا۔

انہوں نے مزیدکہا: اگر آج انبیائے کرام ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں تو ان کے الفاظ اور قرآن پاک ہم سے گفتگو کرتے ہیں اور ہمیں راہِ راست پر گامزن ہونے کا طریقہ بتاتے ہیں۔ نقصان اس شخص کا ہوتاہے جو انبیاء علیہم السلام کی بات نہ سنے اور افراط وتفریط کا شکار ہوجائے۔ آج کل یہودیت صرف موسی علیہ السلام کا نام لیتی ہے، ان کی تعلیمات سے کوئی چیز ان کے پاس نہیں ہے۔ یادرکھیں اسلام سے پہلے ادیان میں جو سختیاں تھیں وہ دراصل ان لوگوں کی کوتاہیوں کیلیے سزائیں تھیں۔ ایسا کہنا غلط ہے کہ ان کا دین افراط وتفریط کا شکار تھا۔ تمام ادیان سماویہ کی بنیاد آسانی اور فطرت پر تھی لیکن بعض کیلیے سختیاں پیدا کردی گئیں جو ان کے کرتوتوں کے نتائج تھیں۔جو اعتدال کی راہ چھوڑدیتاہے سزا و عذاب اس کا مقدرہے۔

مولانا عبدالحمیداسماعیلزہی نے ’’عدل وانصاف‘‘ کو راہ اعتدال کا نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا: تمام انسانوں کو اپنے ہم نوعوں سے عدل وانصاف سے پیش آنا چاہیے۔ میاں بیوی، حکمران ورعیت سمیت تمام لوگ ایک دوسرے کے حقوق کاخیال رکھیں۔

ہرحال میں نماز قائم ہونی چاہیے
اپنے خطاب کے ایک حصے میں قیام نماز کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا: بعض لوگ نمازیں قضا کرتے ہیں جو انتہائی افسوس ناک بات ہے۔ نماز کا قیام اعتدال اور فطرت کی راہ ہے۔ خواتین اور بچے گھروں میں نماز پڑھیں، تعلیمی مراکز میں اساتذہ وطلبہ نماز کے اوقات میں پڑھائی بند کرکے باجماعت نماز کا اہتمام کریں۔ عسکری چھاؤنیوں میں بھی نمازپڑھنے کے لیے کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ نماز سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں ہوسکتی۔ جب نماز کا وقت آپہنچے تو ہر شخص ہرحال میں ہو نماز قائم کرے اور اپنا کاروبار چھوڑکر نماز پڑھنے کا اہتمام کرے۔ کوشش کی جائے مساجد میں جماعت کے ساتھ نماز قائم کی جائے۔

امیدہے زاہدانی اہل سنت کی عیدگاہ کامسئلہ جلد حل ہوجائے
اپنے بیان کے آخرمیں زاہدان میں اہل سنت کی عیدگاہ کے مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ممتاز سنی عالم دین نے کہا: زاہدانی سنی عوام کیلیے وسیع عیدگاہ بہت ضروری ہوچکی ہے۔ شیعہ حضرات کا مسئلہ حل ہوچکاہے اور انہیں ساٹھ جریب وسیع زمین مل چکی ہے۔ لیکن سنی برادری آٹھ سالوں سے کوشش کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ ان کی عیدگاہ کا مسئلہ حل ہوجائے لیکن ایسا نہیں ہواہے۔
حکام اس بات کوملحوظ رکھیں کہ اس مسئلے کے حل سے مسلمانوں میں بھائی چارہ کو فروغ ملے گا اور ان کی اخوت میں استحکام آئے گا، لہذا جلدازجلد سنی برادری کی اس مشکل کو حل کرنا ان کی ترجیح ہونی چاہیے۔