’عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین‘ کے رکن نے شام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزیدکہا: شام میں جاری تبدیلیوں کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ہے؛ ایرانی حکام بالا اس بات کو مدنظر رکھیں کہ شام کا اکثر حصہ مخالفین کے قبضے میں آچکا ہے اور دنیاکے اکثر ممالک نے نئے اپوزیشن اتحاد کو شامی قوم کی قانونی نمائندہ حکومت تسلیم کیا ہے، ایک طرف بشاراسد کا اصلی حامی، روس، بھی اس بات کا اعتراف کرچکاہے کہ مسلح اپوزیشن کی کامیابی کے امکانات بہت ہیں۔ لہذا ایران مداخلت اور ثالثی کرکے مسٹر الاسد کو مستعفی ہونے کی ترغیب دیدے۔ بشاراسد کے دن گنے جاچکے ہیں، اگر ایران موجودہ حالات کے تناظر میں شام میں مزید کشت وخون اور تباہی کی راہ روک لے تو اس سے ملک کے قومی مفادات کا تحفظ ممکن ہوگا۔
جامع مسجدمکی زاہدان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: میرا خیال ہے ایران کا یہ موقف اور اقدام سب سے پہلے اللہ کی رضامندی اور دوسرے مقام پر قومی مفادات کے تحفظ کا باعث ہوگا۔ ایرانی قوم کے دمشق میں بعض مفادات ہیں، حکام کو جلدازجلد کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔
ایران کے مایہ نازسنی عالم دین نے زور دیتے ہوئے مزیدکہا: ایران کھلم کھلا بشارالاسد کی روبہ زوال حکومت کی حمایت کرتاچلا آرہا ہے؛ اگر ان حالات میں ایران کا بشارالاسد کی برطرفی میں کوئی کردار ہو تو اس اقدام کے عالم اسلام اور عرب دنیا میں مثبت نتائج نکلیں گے اور ہمارے ملک کی عزت بھی بچ سکتی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…