نیٹو ممالک کے اجلاس سے پہلے انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’کیمیائی ہتھیاروں کا ممکنہ استعمال عالمی برادری کے لیے ناقابلِ قبول ہو گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر کوئی ان خوفناک ہتھیاروں کے استعمال کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے عالمی برادری کی جانب سے فوری ردعمل کی توقع کرنی چاہیے۔‘
توقع کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس میں نیٹو، ترکی اور شام کی سرحد پر پیٹریئٹ میزائل شکن نظام نصب کرنے کی منظوری دینے والا ہے۔
منگل کو نیٹو کے اٹھائیس رکن ممالک کے وزرائے خارجہ ترکی کی درخواست پر برسلز میں منعقدہ ایک اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
نیٹو حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک خالصتاً دفاعی اقدام ہے۔
اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے شامی صدر بشار الاسد کو تنبیہ کی تھی کہ اگر انھوں نے اپنے عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو انھیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
واشنگٹن میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’دنیا دیکھ رہی ہے، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اب یا کبھی بھی مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہو گا۔‘
دوسری طرف ایک شامی اہلکار نے اصرار کیا ہے کہ ’اگر ایسے ہتھیار ہیں بھی تو وہ کسی بھی حالت میں انھیں استعمال نہیں کریں گے۔‘
بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیئل کے مطابق نیٹو کی ایک ٹیم نے پیٹریئٹ میزائل شکن نظام نصب کرنے کے سلسلے میں ترکی کے مختلف مقامات کا دورہ بھی کیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس نظام کو نصب کرنے کی منظوری روس کی مخالفت کے باوجود متوقع ہے۔ روسی وزیرِ خارجہ بھی برسلز میں ہونے والے نیٹو کے اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر امریکہ، جرمنی یا ہالینڈ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اس نظام کی تنصیب میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ترکی اور شام کی مشترکہ سرحد نو سو کلومیٹر طویل ہے اور شام کی سرکاری افواج کی جانب سے سرحد کے قریب باغیوں کے اڈّوں پر فائر کیے جانے والے کئی مارٹر گولے ترک حدود کے اندر گر چکے ہیں۔
شام میں حال ہی میں باغیوں کو کافی کامیابیاں مل رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انٹیلیجنس جائزوں میں کہا جا رہا تھا کہ شامی حکومت ممکنہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں سے لیس بیلسٹک میزائلوں کے استعمال پر غور کر رہی ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ شام کے پاس مختلف مقامات پر کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار جنگی طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور توپ خانے کے راکٹوں کی مدد سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان ہتھیاروں کے بارے میں تشویش اس قدر بڑھ چکی ہے کہ امریکہ ان کے استعمال کی صورت میں ممکنہ جوابی لائحۂ عمل کے بارے میں غور کر رہا ہے۔
روسی صدر ولادی میر پوتن کا کہنا ہے کہ میزائل شکن نظام کی تنصیب سے سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں کمی کی بجائے اضافہ ہوگا۔ روس گذشتہ بائیس ماہ سے جاری تنازعے میں شامی حکومت کا اہم حامی رہا ہے جبکہ ترکی شامی حکومت کے مخالفین کی حمایت کر رہا ہے۔
پیر کو استنبول میں ترک وزیرِ اعظم طیب اردوغان سے ملاقات کرنے کے بعد روسی صدر پوتن کا کہنا تھا کہ شام کے مسئلے کے حل کے سلسلے میں دونوں ممالک میں اتفاقِ رائے نہیں پیدا ہو سکا۔
تاہم انھوں نے اصرار کیا کہ روسی حکومت کی دمشق کی حمایت کرنے کا مطلب بشار الاسد کی حمایت نہیں ہے۔
دریں اثنا اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ ’وہ شام سے غیر ضروری بین الاقوامی عملہ‘ نکال رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے خبر رساں ادارے آئرن کے مطابق سو میں سے پچیس کے قریب بین الاقوامی عملے کے ارکان اس ہفتے ملک چھوڑ دیں گے۔
اس دوران دمشق سے باہر رفاہِ عامہ کے تمام مشن بند کیے جا رہے ہیں۔
شام میں اقوامِ متحدہ کے سیکیورٹی کے مشیرِ اعلیٰ نے کہا ہے کہ ’حالات نمایاں حد تک بدل رہے ہیں۔ اندھا دھند فائرنگ اور گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے انسانی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔‘
بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق یورپی اتحاد بھی ملک سے سفارتکار اور بین الاقوامی عملہ نکال رہا ہے۔
اس سے قبل مصر کی فضائی کمپنی ’ایجپٹ ایئر‘ نے دمشق جانے والی ایک پرواز کو دمشق کے ہوائی اڈے کے گرد سیکیورٹی کی خراب صورتِ حال کی وجہ سے واپس بلا لیا۔
لبنان میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ شام میں باغیوں کو خاصی کامیابیاں مل رہی ہیں اور عرب لیگ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ شام کی حکومت کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
لیکن ابھی بھی دارالحکومت دمشق شامی حکومت کے قبضے میں ہے اور دوسرے بڑے شہر حلب کے کئی علاقے اور دوسرے مراکز اس کے پاس ہیں، اور ایک سفارتکار کا کہنا ہے کہ ابھی بھی اس میں لڑنے کی صلاحیت ہے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…