- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

مصر: آئینی مسودہ صدر کے حوالے، 15 دسمبر کو ریفرنڈم کا اعلان

مصر میں پیدا ہونے والے آئینی بحران کے تناظر میں آئینی مسودہ صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو پہنچا دیا گیا ہے۔ عجلت میں تیارکردہ اس مسودے کی وصولی کے بعد انہوں نے اس حوالے سے پندرہ دسمبر کو عوامی ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق آئین ساز کونسل کا ہنگامی اجلاس ہفتے کے روز قاہرہ میں نصر کے مقام پر کانفرنس سینٹر میں ہوا۔ اجلاس نے دستوری مسودے کی منظوری دینے کے بعد اسے آئینی اسمبلی کے اسپیکر ایڈووکیٹ حسام الغریانی کے ہاتھ صدر کو بھجوا دیا۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئینی کونسل کے سربراہ العریانی نے کہا کہ مصر کے نئے دستور میں سابق دساتیر کے مطابق شہری آزدادیوں اور بنیادی حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے صدر سے اپیل کی کہ وہ جس قدر جلدی ہو سکے آئینی مسودے پر عوامی ریفرنڈم کرانے کا اعلان کریں۔

آئینی مسودے کی وصولی کے بعد ایوان صدر سے جاری ایک بیان میں صدر محمد مرسی نے کہا کہ دستور پر پندرہ دسمبر کو ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ انہوں نے دستور ساز کونسل کی مساعی کی تعریف کی اور کہا دستوری کمیٹی نے نہایت جانفشانی کے ساتھ کم وقت میں آئینی مسودہ تیار کر کے ملک کو مستحکم کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

صدر محمد مرسی کا کہنا تھا کہ آئین میں تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کیے گئے ہیں۔ حتی کہ ایک عام شہری اور صدر مملکت کے درمیان بھی کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے آئین میں صدر کے اختیارات ماضی کی نسبت کم کیے گئے ہیں۔ اب صدر صرف عوامی ریفرنڈم ہی کے نتیجے میں پارلیمنٹ کو برخاست کرنے کا مجاز ہو گا اور اس کا یکطرفہ فیصلہ قبول نہیں کیا جا سکے گا۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ نیا دستور نئے انقلاب مصر کے اہداف میں سے ایک اہم ہدف تھا جسے حاصل کر لیا گیا ہے۔ اس دستور میں سماجی انصاف، آزادی صحافت اور ملک میں مکمل جمہوری نظام کی سفارشات شامل کی گئی ہیں۔ صدر محمد مرسی نے آئین سازی میں مسیحی برادری کے تعاون کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام طبقات کے ساتھ ان کے حقوق اور مطالبات کے لیے وہ کھلے دل کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

صدر کی حمایت اور مخالفت میں احتجاج جاری
ہفتے کے روز صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حمایت اور مخالفت میں شہریوں نے احتجاج جاری رکھا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قاہرہ یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں ہزاروں افراد نے جمع ہو کر صدر محمد مرسی سے یکجہتی کے لیے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ وہ ملک میں ’’اسلامی شریعت کا نفاذ‘‘ چاہتے ہیں۔

قاہرہ کے تحریر چوک میں کئی روز سے احتجاجی دھرنا دیے اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ صدر کے خصوصی اختیارات کےاعلامیے کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ اپوزیشن نے اسیوط شہر میں بھی صدر کے خلاف جلوس نکالے۔ اسکندریہ اور اسماعیلیہ شہروں میں صدر کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان توتکار بھی ہوئی تاہم کسی قسم کی کشیدگی کی اطلاع نہیں ملی۔ تمام بڑے شہروں میں سیکیورٹی بدستور ہائی الرٹ ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ