- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

شام: بم دھماکوں، فائرنگ میں 190 افراد ہلاک

شام کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ دارالحکومت دمشق کے جنوب مشرقی علاقے میں دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں کم از کم 34 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ جبکہ پورے ملک میں بم دھماکوں اور فائرنگ میں ایک سو نوے افراد ہلاک اور سو زخمی ہوئے ہیں۔


رپورٹس کے مطابق اس علاقے کے بہت سے رہائشی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، اور گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ایس او ایچ آر کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کم از کم 34 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ مبصر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ ان دھماکوں کے ذریعے سرکاری فوج کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
ٹیلی ویژن پر آگ بجھانے والے عملے کو دو جلی ہوئی گاڑیوں کے ڈھانچوں میں آگ بجھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
جرمانہ میں اسی دوران دو چھوٹے بموں کے دھماکے بھی ہوئے، تاہم ان میں کسی شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے جرمانہ سے بتایا ہے کہ بدھ کے روز سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
حالیہ دنوں میں دمشق کے نواحی علاقوں میں شدید جنگ ہوتی رہی ہے۔
جرمانہ میں زیادہ آبادی دروز اور عیسائیوں کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہاں حکومت کے حامی افراد نے باغیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلح دھڑے تشکیل دے رکھے ہیں۔
29 اکتوبر کو اسی علاقے میں ایک اور کار بم دھماکے میں 11 افراد مارے گئے تھے۔
ایک حکومت مخالف دھڑے ایل سی سی نے کہا ہے کہ دارالحکومت اور اس کے مضافات میں منگل کے روز 48 افراد مارے گئے تھے، جب کہ ملک بھر میں 131 لوگ ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔
حکومت مخالف گروپوں کا کہنا ہے کہ مارچ 2011 میں بشار الاسد کے خلاف مزاحمت شروع ہونے کے بعد سے اب تک 40 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایل سی سی کے مطابق فری سیرئین آرمی نے دمشق کے جنوب میں ایک فوجی فضائی اڈے پر حملہ کیا اور دمشق کے مضافات میں حکومتی افواج کے کئی حملوں کو روکا۔

بی بی سی اردو/ڈان نیوز