اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کا کہنا ہے کہ فلسطینی مزاحمت نے دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کر لی ہے کیونکہ بالآخر اسرائیل کو حماس کی شرائط کے سامنے سر جھکا کر امن معاہدے کو قبول کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آٹھ روز تک غارت گری میں 162نہتے فلسطینیوں کا خون کرنے کے بعد صہیونی دشمن کو امن پر مجبور ہونا پڑا ہے جو ہماری کامیابی کی دلیل ہے۔
تحریک جہاد اسلامی کے سیکرٹری جنرل رمضان عبد اللہ شلح کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مشعل کا کہنا تھا کہ مصر کی نگرانی میں امن معاہدے کی شرائط طے پا گئی ہیں اور فریقین نے سیز فائر کردیا ہے۔ اس طرح اسرائیل غزہ پر اپنے حملے کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ سیز فائر سے تھوڑ ی دیر پہلے تک مزاحمت کار اسرائیلی علاقوں پر راکٹ برساتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی کوشش تھی کہ مزاحمت کار پہلے یکطرفہ طور پر اپنے راکٹ حملے بند کر دیں اور اس کے بعد امن پر بات چیت ہو۔ تاہم اس کی اس خواہش کو فلسطینیوں نے یکسر مسترد کر دیا۔ حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے دوسری جانب غزہ پر بری، بحری اور فضائی حملوں کو روکنے کی شرط پر سیز فائر کو قبول کیا۔
خالد مشعل نے کہا کہ امن مذاکرات میں مصر کا کردار بڑا اہم رہا۔ اسی طرح ترکی اور قطر نے بھی اس معاہدے کو کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ کو ایران کی جانب سے مدد بھی حاصل رہی، انہوں نے خواہش ظاہر کی اب عرب دنیا فلسطینیوں کو اسلحہ فراہم کرکے ان کی بھرپور مدد کریگی۔
انہوں نے اسرائیل کی جانب سے مستقبل میں پھر غزہ پر حملوں کی دھمکی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں غزہ میں ہونے والے بڑے جانی و مالی نقصان کا انتہائی افسوس ہے تاہم اس معرکے سے ہم سرخرو ہوکر نکلے ہیں۔ اسرائیل آئندہ بھی غزہ پر حملہ کر سکتا ہے مگر ہار ہی اس کا مقدر ہو گی۔
اس موقع پر انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور تحریک فتح کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اس جنگ سے یہ سبق حاصل ہوگیا کہ فلسطینیوں کا واحد آپشن مزاحمت ہی ہے۔ اس طرح کے دشمن کو صرف قوت سے ہی جواب دیا جا سکتا ہے۔
فلسطینی اور مسلمان اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کی تیاری کریں: ھنیہ
فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت میں دشمن کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دشمن جن مذموم عزائم کو لیکر غزہ پر حملہ آور ہوا تھا وہ تمام عزائم خاک میں ملا دیے گئے ہیں۔ اب دشمن دوبارہ غزہ کی پٹی پرحملے سے قبل سوبار سوچے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ صہیونی دشمن کے خلاف ہماری جنگ ختم نہیں ہوئی فلسطینی عوام اور مسلمان اسرائیل سے فیصلہ کن جنگ کی تیاری کریں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے غزہ کی پٹی میں مقامی اور غیرملکی صحافیوں کی ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل غزہ پر مزید چند دن جارحیت رکھتا تو یہ جنگ فلسطین سے باہر نکل کرعلاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔ اسرائیل کو مجبورا جنگ ختم کرنا پڑی ہے کیونکہ صہیونی ریاست علاقائی جنگ کا چیلنج قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
عالم اسلام کے نام اپنے پیغام میں اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ میں عرب اور اسلامی دنیا سے صرف یہ اپیل کروں گا کہ وہ اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کی تیاری کریں۔ دشمن کےخلاف جنگ کا وقت اب آیا ہے۔ اب مسلمانوں کو بیت المقدس، مقبوضہ عرب علاقے اور مسجد اقصیٰ کو بھی آزاد کرانا ہے۔ اس کے لیے فیصلہ کن اور طویل جنگ کی ضرورت بھی ہو تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
فلسطینی وزیراعظم نے کہا کہ اگر بے گناہوں کا وحشیانہ قتل عام جنگ میں فتح کا معیار قرار دیا جائے تو یہ اسرائیلی دشمن ہی کی فتح قرار دی جائے گی کیونکہ عالمی سطح پر ممنوعہ ہتھیاروں کی مدد سے فلسطینیوں کی کے خاندان ختم کردیے گئے، فلسطینیوں کی نمائندہ قیادت کومٹانے کی گھناؤنی سازش سال ہا سال سے جاری ہے۔
شیخ احمد یاسین، ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسی اور فلسطین ہزاروں مجاہد صفت لیڈر نہایت بے دردی سے شہید کردیے گئے لیکن فلسطینی عوام اپنے صبرو استقامت سے صہیونی دہشت گردی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ہر آنے والے معرکے میں دشمن کو پہلے سےزیادہ سخت جواب دینے کی صلاحیت پیدا کررہے ہیں۔ مجاہدین کی یہی فتح ہے۔ یہی فلسطینی عوام اور مسلم امہ کی فتح ہے اور آخر کار ہم صہیونی دہشت گردی کو شکست دینے کے قابل ہوجائیں گے۔
وزیراعظم اسماعیل ھنیہ غزہ کی پٹی صہیونی دہشت گردی بند کرانے کے لیے مصر اور عرب ممالک کے کردار کوسراہا اور مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا خاص طورپر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصر نے صہیونی دہشت گردی بند کرانے میں مصر نے ماضی کے برعکس جرات مندانہ کردار ادا کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین