- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

غزہ پریلغار؛ مشرق وسطی انقلابات پر رائے عامہ کوگمراہ کرنے کی کوشش

زاہدان(سنی آن لائن)ممتازسنی عالم دین مولانا عبدالحمیداسماعیلزہی نے فلسطینی علاقہ ‘غزہ‘ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس یلغار کو مشرق وسطی میں جاری آزادی پسند تحریکوں کے بارے میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی سازش قرار دی۔
جامع مسجدمکی زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: صہیونی ریاست اسرائیل اس بات سے سخت خوفزدہ ہے کہ اس کے آس پاس ملکوں میں جمہوری پسند اور مستقل حکومتیں اقتدار حاصل کریں جو اس کیلیے ناقابل پسند اور خطرناک ہے۔ اسی لیے لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے منحرف کرنے کی خاطر محصور فلسطینیوں پر ہوائی و زمینی حملے ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزیدکہا: صہیونی اسرائیلی بہت مکار اور انتہائی منحوس لوگ ہیں؛ امریکی عوام اور حکام کو ایک آزاد اور مستقل فلسطین سے ڈرانے کے لیے یہ پست حکمران معمولی بہانوں کی بنیاد پر معصوم اور نہتے فلسطینیوں کو لہولہاں کرتے ہیں۔ وہ یہ ثابت کرانا چاہتے ہیں کہ مستقل فلسطین جو ایک آزاد ریاست ہو دنیا کیلیے خطرہ ہے!

عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے مزیدکہا: آج پوری دنیا کی اقوام اس بات پر متفق نظر آرہی ہیں کہ تشدد کا راستہ چھوڑکر پرامن طریقوں سے جدوجہد کی راہ اپنالیں؛ لیکن امریکا، یورپ اور روس سمیت بعض دیگر قوتیں مختلف بہانوں سے تشدد کی پرچار کرتی ہیں۔ اگر مغرب کی پشت پناہی نہ ہوتی تو اسرائیل میں ایسی حرکتوں کی ہمت نہ تھی۔ فلسطین کی حدود کے اندر اور باہر فلسطینی رہنماؤں کو قتل کیاجاتاہے، ایرانی سائنسدان ان کے ٹارگٹ کلرز سے محفوظ نہیں۔ لیکن کوئی ان کی مذمت نہیں کرتا۔

حضرت شیخ الاسلام نے اسرائیل کو ایک عالمی دہشتگرد ریاست قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کی نااہلی پر افسوس کا اظہار کیا جو اس ناجائز ریاست کی دہشتگردانہ کارروائیوں کی روک تھام میں ناکام ہوچکی ہے۔

“ستاربہشتی” کے قاتلوں کو انصاف کے کٹھرے میں لایاجائے
اپنے بیان کے ایک حصے میں معروف ایرانی بلاگر اور نوجوان مزدور “ستار بہشتی” کی گرفتاری کے بعد ہلاکت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ستاربہشتی جو ایک نوجوان مزدور اور بلاگر تھا گھر سے گرفتاری کے چند دن بعد موت کا شکار ہوگیا۔ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ دوران تحقیق ملزمان کو تشدد کانشانہ بنایا جاتاہے اور بعض افراد اسی دوران زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں۔

انہوں نے مزیدکہا: ہم ہزاروں سال طویل تہذیب اور ثقافت رکھنے کے دعوے کرتے ہیں؛ ایسے میں ان جیسے واقعات کا رونما ہونا شرم کا باعث ہے۔ اس سانحے سے پوری قوم کا سر جھک گیا۔ ہر ذی شعور انسان کو یہ خبر سن کر دکھ ہوا۔

ایرانی اہل سنت کے رہنما نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: مذکورہ واقعہ چونکہ دارالحکومت میں وقوع پذیر ہوا تو جلد اس کی خبر میڈیا میں شائع ہوگئی اور غیرملکی میڈیا میں اس خبر کو مکمل کوریج ملی۔ لیکن ایسے ہی واقعات دوردراز شہروں اور علاقوں میں رونما ہوتے ہیں جن کی خبر کسی کو نہیں پہنچتی؛ متاثرین کے اہل خانہ خبر شائع کرنے سے ڈرتے ہیں۔ حکام کو چاہیے ایسے اہلکاروں کو سخت سزا دیں تاکہ ملک کی بدنامی نہ ہو۔ اگر کوئی سپاہی اچھی کارکردگی دکھائے تو اس سے قوم سرخرو ہوجاتی ہے، اسی طرح اگر کوئی اہلکار جرم کا ارتکاب کرے تو اس سے سب کی بدنامی ہوتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ایسے واقعات کثرت سے ہمارے ملک میں رونما ہوتے ہیں۔ لہذا ایسے لوگوں کی راہ بند کرنی چاہیے۔ اگر سانحہ “کہریزک” کے ملزموں کو سزا ملتی تو شاید یہ واقعہ دیکھنے میں نہ آتا۔

ممتاز سنی عالم دین نے مزیدکہا: انصاف کے حوالے سے حکام کی ذمہ داریاں بہت سخت ہیں۔ انہیں خیال رکھنا چاہیے عدل و انصاف پامال نہ ہو۔ انصاف کو ذبح کرنے کے بجائے ملزم اہلکاروں کو قربان کرنا کہیں بہتر ہے۔ اگر یہاں عدل کو قربان کیاجائے تو اس سے ملک، قوم اور اسلام کی بدنامی ہوگی۔ تشدد کرکے زبردستی سے اعترافی بیان لینا شریعت، آئین اور قانون کی رو سے منع ہے۔ اگر تشدد اور ٹارچر سے کسی ملزم سے اعتراف لیاجائے تو عدالت میں شریعت کے مطابق اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ ایسے اعترافات کی بنیاد پر جج کوئی حکم نہیں دے سکتا۔

انہوں نے مزیدکہا: ہرحال میں انسانی عزت و کرامت کی خیال داری کرنی چاہیے۔ حتی کہ جب کسی مجرم کو سزا دی جاتی ہے تو انسانی عزت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اسلام ہرحال میں انسانیت کی کرامت پر زور دیتاہے۔

اپنے خطبے کے آخر میں اسماعیل آباد خاش کے ممتاز دینی ادارہ “دارالہدیٰ” کے مہتمم مرحوم “مولانا عبدالواحد مرادزہی” کے سانحہ ارتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: آپ انتہائی نیک سیرت انسان اور صالح عالم دین تھے۔ اللہ تعالی آپ کے درجات بلند فرمائے، تمام گناہوں سے درگذر کرے اور اہل خانہ و متعلقین کو صبرجمیل نصیب فرمائے۔