پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر خودکش کار بم حملے میں اکیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔
کراچی میں رینجرز کے ترجمان میجر سبطیین رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں رینجرز ہیڈ کوارٹر کے اندر رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں اکیس اہل کار زخمی ہوگئے۔
انھوں نے کہا کے اس حملے میں دھماکہ خیز مواد سے لدا ایک چھوٹا ٹرک استعمال کیا گیا۔
سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق اس حملے میں دو رینجرز اہلکار بھی ہلاک ہو گئے۔
زخمیوں کو عباسی شہید ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے جن میں سے چند افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
آئی جی سندھ پولیس فیاض لغاری کے مطابق یہ دھماکہ خودکش تھا جس کی پہلے سے اطلاعات موجود تھیں۔ فیاض لغاری کا کہنا ہے کہ اس حملے میں سو کلو گرام سے زیادہ دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا گیا۔
ایس ایس پی نارتھ ناظم آباد خرم وارث کا کہنا ہے کہ دھماکے کے متعلق معلومات اکھٹی کی جار ہی ہیں تاہم ابتدائی تفتیش کے مطابق دھماکہ خود کش لگتا ہے۔
سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ہمارے نامہ نگار نے رینجرز اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ اس عمارت میں تقریباً سو سے ڈیڑھ سو رینجر اہلکار موجود ہوتے ہیں۔ دھماکے میں رینجرز کے ہیڈ کوارٹر کی چار منزلہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق دھماکے کے بعد عمارت کے ایک حصے میں آگ لگ گئی ہے جس پر قابو پانے کی کوششیں کی جار رہی ہیں۔
دھماکے میں رینجرز کے ایک زخمی اہلکار نے نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ایک گاڑی دفتر کے گیٹ کو توڑ کر عمارت کے احاطے میں داخل ہوئی جس کے درخت سے ٹکرانے کے بعد دھماکہ ہوا۔
یاد رہے کہ اس حملے سے ایک روز قبل ہی کراچی میں بین الاقوامی دفاعی نمائش کا آغاز ہوگیا ہے جس میں ٹینک، توپیں اور دیگر اسلحہ نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ دریں اثناء انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ کراچی میں امن و امان قائم کرنے کے لیے آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے۔
بی بی سی اردو