پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بدھ کو قصہ خوانی بازار کے تھانہ کابلی کے نزدیک ہوا جب ایس پی تفتیش ہلال حیدر خان اپنی گاڑی پر دفتر جا رہے تھے کہ حملہ آور نے انہیں نشانہ بنایا۔
آئی جی پولیس خیبر پختونخوا کے دفتر سے پولیس اہلکار محمد سلمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں ایس پی کے ڈرائیور الیاس اور ایک محافظ مراد سمیت دو راہ گیر بھی ہلاک ہو گئے۔
اس حملے میں اب تک چوبیس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں راہ گیر اور پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔
پولیس اہلکار کے مطابق ایس پی ہلال حیدر خان کی رہائش گاہ تھانہ کابلی کے قریب ہی تھی۔
محمد سلمان نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ خود کش حملہ آور کا سر مل گیا ہے اور اس کی شناخت کی جا رہی ہے۔
گذشتہ کچھ دنوں میں پشاور میں ہونے والا یہ تیسرا بڑا حملہ ہے جس میں اعلیٰ پولیس حکام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
چند روز قبل پشاور کے قریب متنی کے علاقے میں ایک چوکی پر حملے میں کے بعد حملہ آور پولیس ایس پی خورشید خان کا سر کاٹ کر ساتھ لے گئے تھے۔
ایس پی خو رشید خان پر حملے سے قبل ان کے پیش رو ایس پی عبدالکلام بھی شدت پسندوں کے اسی نوعیت کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
اس سے پہلے اسی علاقے کے ڈپٹی سپرنڈنٹ رشید خان بھی گاڑی پر بم حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…