امریکی عدالت نے عافیہ صدیقی کی اپیل کی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماتحت عدالت کے جج نے عافیہ صدیقی کو اپنے دفاع میں بیان دینے کی اجازت دے کر غلطی نہیں کی ہے۔
یاد رہے کہ عافیہ صدیقی کو ستمبر 2010 میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج رچرڈ برمن نے 86 سال کی سزا سنائی تھی۔
عافیہ صدیقی کو وفاقی عدالت کی جیوری نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔
ڈاکٹر عافیہ کو جولائی دو ہزار آٹھ میں افغان پولیس نے کیمیائی اجزاء رکھنے اور ایسی تحریریں رکھنے پر گرفتار کیا تھا جن میں نیویارک پر حملے کا ذکر تھا جس میں بھاری جانی نقصان ہونا تھا۔
استغاثہ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے کیمیائی اجزاء اور نیویارک میں حملے کے بارے میں تحریروں کی برآمدگی کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر رائفل اٹھا کر فوجیوں پر گولیاں چلائیں۔ اس حملے میں کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا تھا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اپیل کورٹ میں جیوری کو بتایا گیا کہ گرفتاری کے ایک روز بعد ڈاکٹر عافیہ نے تفتیشی کمرے میں ایم فور رائفل چھین کر فائرنگ شروع کردی۔
ڈاکٹر عافیہ کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ عافیہ نے بدحواسی کی کیفیت میں رائفل چھینی اور فائرنگ کی۔ ان کا موقف تھا کہ عافیہ کے اس عمل کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…