شام جانے والے ایرانی طیارے کو عراق میں اس خدشے کے پیش نظر اتارا گیا ہے کہ اس میں شامی حکومت کے لیے اسلحہ تو نہیں لے جایا جا رہا تھا۔ اس ماہ میں یہ دوسرا موقع ہے کہ شام جانے والے کسی غیر ملکی طیارے کو پڑوسی ملک میں اتارا گیا ہے۔
اس اقدام کا ایک مقصد امریکا کی اس تشویش کو بھی دور کرنا تھا کہ عراق شامی صدر بشار الاسد کی فوج کو ایران کے فوجی ساز وسامان کی فراہمی کے لیے ایک محفوظ روٹ بن چکا ہے۔ امریکا ماضی میں عراق کی فضائی حدود سے گذر کر شام جانے والے طیاروں کو اتارنے اور ان کے معائنے کے مطالبات کر چکا ہے۔
عراق کی سول ایشن اتھارٹی کے سربراہ ناصر بندر نے اتوار کو بتایا ہے کہ ایران کے مال بردار طیارے کا معائنہ ہفتے کے روز کیا گیا تھا اور انسپکٹروں نے ہتھیاروں کی عدم موجودگی کا یقین کرلینے کے بعد اس کو اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ ہمارے ماہرین کو طیارے سے کوئی ممنوعہ شے نہیں ملی بلکہ اس میں طبی سامان اور کھانے کی اشیاء لے جائی جا رہی تھیں۔ ہمارے ماہرین نے اپنا اطمینان کر لینے کے بعد طیارے کو پرواز کی اجازت دی ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ ”شام کو اسلحہ کی ترسیل کے شُبے کے پیش نظر طیاروں کے معائنے کا کام جاری رہے گا”۔ عراقی حکام ماضی میں متعدد مرتبہ یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ اپنی فضائی حدود کو شامی فوج یا باغی جنگجوؤں کو اسلحے کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔
عراقی حکام نے دو اکتوبر کو بھی ایران کا ایک مال بردار طیارہ معائنے کی غرض سے اتار لیا تھا۔اس طیارے سے بھی کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوئے تھے۔ گذشتہ ماہ عراق نے شمالی کوریا کے ایک طیارے کو اس خفیہ اطلاع کے بعد اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا کہ اس طیارے میں مبینہ طور پر شام کے لیے ہتھیار بھیجے گئے تھے۔
بغداد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…