- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

ایران: تین سنی طالبات کی تعلیم پرپابندی

ایران کے مغربی صوبہ کردستان سے تعلق رکھنے والی تین سنی طالبات کی تعلیم پرسکیورٹی اداروں نے پابندی عائدکرکے ان کی حاصل کردہ اسناد کی تسلیم سے انکارکیا ہے۔

’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی نیوزایجنسی ’ہرانا‘ نے رپورٹ دی ہے کہ ’ہمدان‘ اور ’سنندج‘ شہروں میں میڈیکل یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم تین سنی طالبات کی مزیدتعلیم ممنوع قرار پاچکی ہے۔ مذکورہ طالبات جی پی کرنے کے بعد امراض نسوان کے بعض شعبوں میں سپیشلائزیشن کررہی تھیں کہ انہیں آگے بڑھنے سے روک دیاگیا۔

اطلاعات کے مطابق کْرد طالبات کی مسلسل شکایات واحتجاج کے بعد یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے انہیں اطلاع دی گئی کہ سکیورٹی اداروں نے ان کی تعلیم اور سپیشلائزیشن کی شدید مخالفت کی ہے۔ تعلیم سے محروم قرار دی جانے والی طالبات معروف سنی رہنما ’کاک احمد مفتی زادہ‘ کی افکار کی پیروکار ہیں جو دس سال جیل میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد انتقال کرچکے تھے۔

تعلیمی پابندی کی شکار طالبات کے نام درج ذیل ہیں:

1. ڈاکٹر سروہ حیدری؛ آپ کردستان میڈیکل یونیورسٹی کی نسوانیات (Obstetrics & Gynecology) فیکلٹی کے آخری سال کی ریزیڈنٹ تھیں۔ ڈاکٹر حیدری نے اپنا تحقیقی مضمون مرحوم کاک احمد مفتی زادہ کے نام کیا تھا جس کے فورا بعد انہیں فائنل امتحانات میں شرکت کرنے سے منع کیاگیا، اس طرح ان کی تعلیم ادھوری رہ گئی۔

2. ڈاکٹر لیلا بْرنا؛ جو ہمدان میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ تھیں اورشعبہ زچہ وبچہ سرجری میں سپیشلائزیشن کررہی تھیں۔ پری ٹیسٹ میں کامیاب ہونے اور کلاسز لینے کے باوجود انہیں کہاگیا ’سکیورٹی اداروں نے آپ کامضمون مستردکیاہے!‘، لہذا ڈاکٹر برنا بھی مزید تعلیم حاصل نہیں کرسکیں گی۔ آپ کو جنرل پریکٹس کی سند بھی نہیں دی گئی۔

3. ڈاکٹر سمیہ ہوشیاری؛ کردستان میڈیکل یونیورسٹی میں امراض اطفال میں سپیشلائزیشن کرنے والی طالبہ بھی پری ٹیسٹ میں کامیاب ہوچکی تھیں لیکن خفیہ اداروں نے ان کا مضمون ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ان کی تعلیم کی راہ بھی بند کردی ہے۔ ڈاکٹر ہوشیاری کے پاس جنرل پریکٹس کی سرٹیفیکیٹ نہیں لہذا آپ متعلقہ شعبے میں سپیشلائزیشن نہیں کرسکتیں۔