Categories: پاکستان

طالبان کی دھمکی سے پاکستانی میڈیا پریشان

پاکستانی میڈیا نے ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملے کے بعد طالبان کی طرف سے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر خطرے کا اظہار کیا ہے۔

دریں اثناء بی بی سی نے کہا ہے کہ طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی چودہ سالہ بچی ملالہ کی کوریج کے سلسلے میں ذرائع ابلاغ کے کئی اداروں کو ملنے والی دھمکیوں کے بعد بی بی سی نے پاکستان میں اپنے عملے کے تحفظ اور اپنے آپریشنز کے لیے مناسب اقدامات کیے ہیں۔
ل پاکستان نیوزپیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) نے کہا ہے کہ میڈیا کو طالبان کی دھمکیوں کا مقصد آزادیِ اظہار کو کچلنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں کا انکشاف پاکستانی طالبان کے رہنما کی ٹیلی فون کا پتہ چلنے سے ہوا۔
پاکستان کے خفیہ اداروں کی جانب سے پکڑی جانے والی اس کال میں تحریکِ طالبان پاکستان کے رہنما حکیم اللہ محسود نے اپنے نائب کو لاہور، کراچی، راولپنڈی اور اسلام آباد میں میڈیا کو نشانہ بنانے کی ’خصوصی ہدایات‘ دی ہیں۔
اے پی این ایس نے کہا کہ طالبان لوگوں کی آواز کو زبردستی دبانا چاہتے ہیں۔
پاکستانی پریس فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ حکومت نے ان علما کو بھی خبردار کیا ہے جنھوں نے اس واقعے کی کھلم کھلا مذمت کی تھی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ حکومت نے طالبان کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا ہے۔
ملالہ پر ہونے والے حملے کی پاکستان بھر میں مذمت کی گئی تھی۔ ان تنظموں نے بھی بچوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی تھی جو طالبان کے مشن سے کسی حد تک ہمدردی رکھتی تھیں۔
پاکستانی میڈیا نے طالبان ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ اس حملے کو ملنے والی توجہ پر برہم ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ جانب دارانہ ہے۔
بی بی سی نے اس صورتِ حال پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے عملے کی حفاظت کے لیے ہر ضروری اقدام کریں گے اور یہ کہ ہم پاکستان میں اپنی نشریات جاری رکھیں گے‘۔
بی بی سی اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بی بی سی کے عملے کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے تمام علاقے جہاں عسکری کشمکش ہو وہاں صحافیوں کے لیے خطرات موجود رہتے ہیں چاہے وہ کسی بھی ادارے کے لیے کام کرتے ہوں۔ یہ خطرہ کبھی بڑھ جاتا ہے اور کبھی ختم ہو جاتا ہے۔
عامر احمد خان کے مطابق ’بی بی سی کی بحثیت ایک ادارہ یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر اس علاقے کی مکمل خبر رکھے جہاں اس کا عملہ کام کر رہا ہے۔ اپنے عملے کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے اقدامات غیر معمولی نہیں ہیں۔ یہ اس وقت بھی ضروری ہوتے ہیں جب خطرہ قدرتی آفات سے ہو‘
ادھر برطانیہ کے شہر برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کی طبعیت مستحکم ہے اور یہ کہ ان کا علاج کرنے والی میڈیکل ٹیم ان کا مسلسل خیال رکھے ہوئے ہیں۔
ہسپتال کی انتظامیہ اپنی ویب سائیٹ پر ملالہ کی صحت کے متعلق اپ ڈیٹس شائع کر رہی ہے۔
تازہ ترین اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ملالہ نے کل ہسپتال میں دوسری آرام دہ رات گزاری ہے اور ان کا خیال رکھا جا رہا ہے‘۔
اعلامیے کے مطابق ملالہ کے لیے مقرر معالج ٹیم میں کوئین الزبتھ اسپتال اور برمنگھم چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر شامل ہیں۔
ہسپتال کی انتظامیہ نے ملالہ کے علاج کے سلسلے میں ایک فنڈ بھی قائم کر دیا ہے جس میں لوگ اپنے عطیات جمع کرا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ہسپتال کی ویب سائیٹ پر ہی ایک اور خصوصی صفحہ بھی بنایا گیا ہے جہاں ملالہ سے محبت اور ہمدردی کا اظہار کرنے والے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پیغامات وہاں درج کریں جنہیں صحت یابی کے بعد ملالہ کو پیش کیا جائے گا۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

3 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago